مگرمچھ کے آنسو بہانے کا محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا جو کسی فرد کی جانب سے دیگر افراد کے سامنے مکر سے کام لینے یا دکھاوے کا رونا رونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مگر کیا یہ طریقہ کار واقعی کام کرتا ہے؟ اس کا جواب ایک نئی دلچسپ تحقیق میں دیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق یہ طریقہ کار واقعی کارآمد ثابت ہوتا ہے، خاص طورپر اگر مگرمچھ کے آنسو کسی مرد کی جانب سے بہائے جائیں۔
پولینڈ کی Lodz یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ہزاروں افراد کو ایسی تصاویر دکھائی گئی تھیں جن کو ایڈٹ کیا گیا تھا تاکہ چہرہ روتا ہوا محسوس ہو۔
ان افراد سے ان چہروں کے بارے میں ان کی رائے کو دریافت کیا گیا اور معلوم کیا گیا کہ ان کے خیال میں یہ آنسو کس حد تک حقیقی ہیں۔
نتائج نے محققین کو دنگ کر دیا کیونکہ مگرمچھ کے آنسو ان افراد کے چہروں پر زیادہ قابل یقین لگتے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے خیال بھی نہیں کیا تھا۔
جی ہاں واقعی زیادہ تر افراد نے مردوں کے روتے ہوئے چہرے کو قابل یقین قرار دیا جبکہ ایسی خواتین کے آنسوؤں پر بھی یقین کرلیا جو دیکھنے میں سخت محسوس ہوتی تھیں۔
محققین نے بتایا کہ جذباتی آنسوؤں کو حقیقی اور مخلص تصور کیا جاتا ہے کیونکہ انہیں بہانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مگر اس کے ساتھ ساتھ لوگ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مگرمچھ کے آنسوؤں کو دیگر افراد کی رائے کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی سطح پر آنسوؤں کو خلوص کی نشانی نہیں سمجھا جاتا کیونکہ اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ کون رو رہا ہے اور صورتحال کیا ہے۔
محققین کے مطابق زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم نے یہ دریافت کیا کہ یہ آنسو یا یوں کہہ لیں کہ مگرمچھ کے آنسو اس وقت زیادہ مؤثر ہوتے ہیں جب ان افراد کی جانب سے انہیں بہایا جائے جن سے توقع نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جیسے مرد یا دیگر افراد کا زیادہ خیال نہ رکھنے والے۔
انہوں نے کہا کہ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ مردوں یا لاپروا افراد کے چہروں پر آنسو غیرمتوقع لگتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی حقیقی وجہ کے باعث ہی وہ ایسا کر رہے ہیں۔
ویسے مگرمچھ کے آنسو بہانے کا محاورہ ایک پرانی کہانی سے منسلک ہے جس کے مطابق مگرمچھ کھانا کھاتے ہوئے روتے ہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ مگرمچھ کھانا کھاتے ہوئے روتے ہیں مگر ایسا شکار کیے ہوئے جانور سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے جسمانی نظام کی وجہ سے ہوتا ہے۔
زیادہ دیر پانی سے باہر رہنے کے باعث مگرمچھ کے نتھنوں میں ہوا کے ذرات اٹک جاتے ہیں، جن کو باہر نکلنے کے لیے مدافعتی نظام مائع سیال کا اخراج کرتا ہے جو ناک سمیت آنکھوں سے بھی بہتا ہے، اسی کو ہم مگر مچھ کے آنسو کہتے ہیں۔









