اکثر افراد ناشتے میں انڈے کھانا پسند کرتے ہیں۔
انڈوں سے پروٹین، منرلز، وٹامنز اور دیگر متعدد غذائی اجزا جسم کو ملتے ہیں اور اس غذا کو صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔
مگر ایک خیال اکثر سامنے آتا ہے کہ زیادہ انڈے کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بلڈ کولسیٹرول بڑھ سکتا ہے۔
اب اس سوال کا جواب ایک نئی طبی تحقیق میں دیا گیا ہے۔
ساؤتھ آسٹریلیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ معتدل مقدار میں انڈے کھانے سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
یہ اپنی طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں غذائی کولیسٹرول اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے جسم کے اندر صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا کہ روزانہ 2 انڈے کھانے سے درحقیقت جسم کے اندر نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے اور امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
واضح رہے کہ امراض قلب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔
محققین نے بتایا کہ اس تحقیق میں ہم نے غذائی کولیسٹرول اور غذائی چکنائی کے اثرات کا الگ الگ جائزہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ انڈوں میں موجود غذائی کولیسٹرول سے جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں چکنائی سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے جسم کے اندر نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق تو جب ناشتے کی بات آتی ہے تو آپ کو انڈوں کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ زیادہ چکنائی والی اشیا کے استعمال پر توجہ مرکوز چاہیے جن سے دل کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔
یہ پہلی تحقیق نہیں جس میں انڈوں کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس سے قبل 2022 میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک اضافی انڈے کو کھانے سے دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
اسی طرح 2020 میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ روزانہ ایک سے زیادہ انڈے کھانے سے امراض قلب سے موت کا خطرہ نہیں بڑھتا۔









