قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے کہاہے کہ مستقبل میں ٹی 20 یا ون ڈے کو چھوڑ سکتا ہوں لیکن جب تک فٹنس ہے ٹیسٹ کرکٹ نہیں چھوڑوں گا۔
ایک انٹرویو میں حسن علی نے کہا کہ جو مشکل وقت میں نے دیکھا اور محنت کی اب اس کا صلہ مل رہا ہے، انگلینڈ میں ٹی 20 بلاسٹ کے دوران بولنگ ردھم اچھا اور فٹنس بھی زبردست ہے، سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے۔
حسن علی نے کہا کہ میں ہمیشہ مثبت توانائی کے ساتھ میدان میں اترتا ہوں، ٹیم ڈریسنگ روم میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش ہوتی ہے جس میں کھلاڑی دباؤ سے آزاد ہو کر بہتر پرفارم کر سکیں۔
حسن علی نے کہا کہ میری ذمہ داری پرفارم کرنا ہے البتہ ٹیم میں شمولیت پی سی بی، کپتان اور مینجمنٹ کی صوابدید ہے، میری کوچ اور کپتان سے بات چیت ہوئی، انہوں نے واضح پلان دیا جس پر عمل کر رہا ہوں، ٹیم مینجمنٹ نے مجھے مستقبل کے لیے مثبت اور واضح ہدایات دی ہیں،جب کھلاڑی کو مینجمنٹ کی طرف سے واضح پیغام ملے تو اس میں اعتماد آتا ہے، اگرچہ دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے لیکن میرے لیے معاملات واضح ہونا خوشی کی بات ہے۔
حسن علی نے کہا کہ میں تینوں فارمیٹس کھیلنا چاہتا ہوں، ٹی 20 میں پیسہ اور گلیمر کے ساتھ دباؤ بھی کم ہوتا ہے، دنیا بھر میں بہت زیادہ لیگز ہیں، اگر آپ سال میں 3 یا 4 بھی کھیل لیں تو کافی رقم کما لیتے ہیں۔
حسن علی نے کہا کہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ریڈ بال کرکٹ میری محبت ہے، میں چاہے ٹی 20 اور ون ڈے سے ریٹائر ہو جاؤں جب تک فٹنس ہے میں ٹیسٹ چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ٹیسٹ میں پرفارم کرنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔









