136

نیچر ایجنگ میں شائع تحقیق: مستقبل کی بیماریوں کا اندازہ اب ممکن

ہم کتنی لمبی اور صحت مند زندگی  گزاریں گے ، یہ جانے کےلئے سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید ٹیسٹ تیار کرلیا  جو صرف ایک خون کے قطرے سے ہماری حیاتیاتی عمر اور مستقبل کی صحت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

یہ تحقیق ایک مشہور سائنسی جریدے ”نیچر ایجنگ“ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اب ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہمارا جسم کتنا صحت مند ہے، ہمیں کون سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں اور ہم کتنے سال صحت کے ساتھ جی سکتے ہیں۔

 ماہرین کہتے ہیں کہ دو افراد جن کی عمر برابر ہو، ان کی جسمانی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک شخص چاق و چوبند ہوتا ہے، جبکہ دوسرا کمزور اور بیمار ہو سکتا ہے۔،ہمارے جسم کے ڈی این اے میں کچھ خاص کیمیائی نشان ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہمارا جسم کیسے کام کر رہا ہے۔

 اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ان نشانات کا جائزہ لیا اور ایک نیا طریقہ بنایا جو یہ بتا سکتا ہے کہ ہمارا دماغ، ہڈیاں، پٹھے، اور آنکھیں کیسی حالت میں ہیں، ہماری زندگی کی کوالٹی کیسی ہے، ہمیں کون سی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

یہ طریقہ اب ایک ”فنکشنل کلاک“ کہلایا جا رہا ہے، جو صرف عمر نہیں بلکہ صلاحیتوں کو بھی جانچتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر پتہ چل جائے کہ جسم میں کمزوری آ رہی ہے، تو ہم اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر اس کو روک سکتے ہیں بلکہ کچھ صورتوں میں واپس جوانی کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔

پروفیسر زپی شٹراوس کے مطابق، ”یہ سائنس فکشن نہیں، حقیقت ہے۔ ہم عمر کے اثرات کو سست یا الٹا سکتے ہیں، بس ہمیں وقت پر پتہ چلنا چاہیے۔“

ماہرین ہر فرد کے لیے ایک الگ منصوبہ بناتے ہیں، جس میں شامل ہوتے ہیں خون کے ٹیسٹ، وٹامنز، کیلشیم اور ہارمونز کی سطح، نیند، ورزش، اور دماغی حالت، غذائی کمیاں اور جسمانی مشقیں۔

اگر کسی کو کمزوری یا ہڈیوں کی بیماری ہے تو اسے مخصوص ورزشیں، خوراک اور دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔

آنے والے وقت میں ہم ایسی دوائیں اور علاج دیکھیں گے جو جسم کے اندر سے خلیات کو دوبارہ زندہ کر سکیں گے۔

جیسے ایک دوا ”میٹفارمن“، جو شوگر کے مریضوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، اب عمر روکنے کے لیے بھی آزمائی جا رہی ہے۔

اگر وقت پر قدم اٹھایا جائے تو عمر بڑھنے کے اثرات کو روکا یا کم کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسی دوائیں آئیں گی جو جسم کو دوبارہ جوان بنا سکیں گی۔