پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں سرطان کی سب سے عام قسم ہے جس سے ہر سال لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔
اس کینسر کی تشخیص کا عمل کافی پیچیدہ ہوتا ہے اور اکثر اس کا علم کافی تاخیر سے ہوتا ہے جس کے باعث اس کا علاج مشکل ہو جاتا ہے۔
2024 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 میں کینسر کے نئے کیسز کی تعداد 2 کروڑ جبکہ اموات ایک کروڑ کے قریب پہنچ گئیں۔
2022 میں دنیا بھر میں کینسر کے 12.4 فیصد کیسز پھیپھڑوں کے سرطان کے تھے جس کے بعد بریسٹ کینسر (11.6 فیصد) جبکہ colon کینسر (9.6 فیصد) بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
کینسر کی مجموعی اموات میں سے 18.7 فیصد اموات پھیپھڑوں کے کینسر سے ہوئیں، جس کے بعد colon کینسر (9.3 فیصد)، جگر کا کینسر (7.8 فیصد) اور بریسٹ کینسر (6.9 فیصد) رہے۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ پھیپڑوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی سب سے زیادہ عام قسم ہے اور عموماً تمباکو نوشی کے عادی افراد میں اس کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں زیادہ تر ایسے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جو زندگی بھر تمباکو نوشی سے دور رہے ہیں۔
مگر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جواب امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دیا گیا۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی دنیا بھر میں پھیپھڑوں کے کینسر میں پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہی ہے۔
درحقیقت فضائی آلودگی سے وہ افراد بھی پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار ہو رہے ہیں جو زندگی بھر سگریٹ سے دور رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی سے ڈی این اے میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
اس تحقیق میں ماہرین نے یورپ، شمالی امریکا، افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار 871 ایسے افراد کی رسولیوں کا جینیاتی تجزیہ کیا جو تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ اگر کسی خطے میں فضائی آلودگی کی شرح زیادہ ہوتی ہے تو وہاں کینسر کا خطرہ بڑھانے والی جینیاتی تبدیلیوں کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
فضائی آلودگی کے ننھے ذرات ٹی پی 53 نامی جین میں ایسی تبدیلیاں لاتے ہیں، جو اس سے پہلے تمباکو نوشی کے عادی افراد میں دیکھنے میں آئی تھیں۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ بہت زیادہ فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے افراد کے ٹیلومیئرز کی لمبائی گھٹ جاتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹیلومیئرز کروموسومز کے ایسے حفاظتی کیپس (caps) ہوتے ہیں جو ڈی این اے کو نقصان سے بچاتے ہیں۔
اگر ٹیلومیئرز کی لمبائی میں قبل از وقت کمی آجائے تو اس سے خلیات کی تقسیم بہت تیزی سے ہونے لگتی ہے جو کہ کینسر کی نشانی بھی قرار دی جاتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے جو بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہم اس کی وجوہات سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا کے متعدد حصوں میں تمباکو نوشی کی شرح میں کمی آرہی ہے مگر اب ایسے افراد پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار بن رہے ہیں، جو اس لت سے ہمیشہ دور رہتے ہیں، درحقیقت پھیپھڑوں کے کینسر کے 10 سے 25 فیصد کیسز ایسے ہی افراد میں سامنے آرہے ہیں۔
ایسے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک قسم adenocarcinoma کی تشخیص زیادہ ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل فروری 2025 میں Lancet Respiratory Medicine journal میں شائع ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ تمباکو نوشی سے دور رہنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں اضافے کی وجہ فضائی آلودگی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی پھیپھڑوں کے کینسر کی اس قسم کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہی ہے خاص طور پر مشرقی ایشیا کا خطہ زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمیں پھیپھڑوں کے کینسر کے پھیلاؤ کے خطرے میں آنے والی تبدیلی کو باریک بینی سے مانیٹر کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ عناصر جیسے فضائی آلودگی کے کردار کو ثابت کیا جاسکے۔









