85

ہائی بلڈ پریشر سے بچانے میں مددگار بہترین پھل

فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کے اکثر مریض اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی علامات عموماً اسی وقت ظاہر ہوتی ہیں جب اس کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہو۔

ہائی بلڈ پریشر سے ہارٹ اٹیک یا فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے نمک کا زیادہ استعمال، دل اور خون کی شریانوں پر زیادہ دباؤ، جسم میں پانی کا اجتماع، فکرمندی اور غصہ۔

اچھی بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلیوں سے ان عناصر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو فشار خون کا باعث بنتے ہیں، خاص طور پر غذائی عادات اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

تو ایسے چند بہترین پھلوں کے بارے میں جانیں جو ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

کیلے

کیلوں کو پوٹاشیم کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

ایک کیلے میں 0.4 گرام پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو روزانہ درکار مقدار کے 9 فیصد حصے کے برابر ہے۔

پوٹاشیم وہ غذائی جز ہے جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذا کے استعمال سے بلڈ پریشر کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

ویسے تو اس پھل کو کھانے سے بلڈ پریشر میں معتدل کمی آتی ہے مگر یہ معمولی کمی بھی طویل المعیاد بنیادوں پر امراض قلب اور فالج سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

پوٹاشیم سے ہٹ کر کیلوں میں فائبر نامی غذائی جز بھی موجود ہوتا ہے اور یہ جز بھی امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے کیونکہ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور میٹابولک صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

انار

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ انار کے جوس پینے سے بلڈ پریشر کی سطح کم ہوتی ہے جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انار کا جوس پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم جز ہے جبکہ یہ غذائی جز دل کی دھڑکن بھی ٹھیک رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ انار جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کے اثر کو بڑھاتا ہے جس سے خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں، جس سے بھی بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

کیوی

یہ پھل بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے استعمال سے بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ روزانہ 2 کیوی پھل کھانے سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

پوٹاشیم سے ہٹ کر اس میں پولی فینولز نامی ایسے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں جبکہ خون کی شریانوں کے ورم میں بھی کمی آتی ہے۔

مالٹے

مالٹے فائبر اور پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں اور یہ دونوں غذائی اجزا دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

مالٹوں میں موجود پوٹاشیم سے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

تربوز

تربوز میں ایک امینو ایسڈ citrulline کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جسم میں خون کی گردش کو بہتر بنا کر بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ تربوز میں لائیکو پین اور پوٹاشیم بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ دونوں ہی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

خوبانی

اس پھل میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

2 خوبانیوں سے جسم کو 181 ملی گرام پوٹاشیم ملتا ہے جس سے پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنے میں مدد ملتی ہے جبکہ بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنا ممکن ہوتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے جس سے فالج کا خطرہ 24 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔