113

پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیاں صارفین کو مہنگی پڑنے لگیں

پاکستان میں ہزاروں صارفین نے ایندھن کی بچت کے لیے ہائبرڈ SUV گاڑیاں خریدیں، مگر اب انہیں اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ گاڑیاں ان کے بجٹ پر مزید بوجھ بن گئی ہیں۔

ایم جی پاکستان کے نمائندے سید آصف احمد کے مطابق ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (HEV) عام پٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد زیادہ مہنگی ہیں، جبکہ ان کی مرمت پر بھی اتنا ہی خرچہ آتا ہے جتنا کہ ایک نارمل گاڑی پر۔

اگرچہ ہائبرڈ گاڑیاں فی لیٹر 8 سے 10 کلومیٹر زیادہ مائلیج دیتی ہیں اور فی کلومیٹر 35 روپے کی بچت ہوتی ہے، لیکن اتنی زیادہ اضافی قیمت کی واپسی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں (PHEV) زیادہ جدید اور مؤثر ہیں، خاص طور پر شہروں میں روزمرہ سفر کے لیے۔ لیکن پاکستان میں ان کے انتخاب محدود ہیں، اور صرف MG HS PHEV ہی ایک آپشن کے طور پر موجود ہے۔

صارفین کی توقعات کے برعکس، ہائبرڈ گاڑی صرف تب ہی فائدہ دیتی ہے جب اس کی اضافی قیمت 2 سے 3 سال میں ایندھن کی بچت سے پوری ہو جائے، جو پاکستان جیسے حالات میں مشکل ہے۔

الیکٹرک گاڑیاں مکمل طور پر ایندھن سے آزاد ضرور ہیں، مگر ان کی بلند قیمت اور چارجنگ سہولتوں کی کمی اب بھی ان کے بڑے پیمانے پر استعمال کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔