وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں کہا کہ پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، اور بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے سب کی رضا مندی ضروری ہے۔
وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امن اور ترقی کی راہ میں بھارت کی ہٹ دھرمی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جو سارک کی ترقی پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں، اور کسی بھی جارحیت کا جواب ماضی کی طرح دیا جائے گا۔









