207

کرک میں تیل ٗگیس اور ایل پی جی منصوبے کا افتتاح 

کرک۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیشپا تیل و گیس اور ایل پی جی منصوبے کا افتتاح کر تے ہوئے کہا ہے کہ جو باتیں عدالتوں میں میڈیا میں ہوتی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں، حیثیت عوام کی ہے جو جون میں اپنا فیصلہ سنائیں گے، گیس کے زیر التواء منصوبوں کی وجہ سے ملک کو سالانہ اربوں کا نقصان ہوا، ماضی کی حکومتیں بھی ان منصوبوں کو مکمل کر سکتی تھیں، آج پاکستان میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں ہے، ہم نے پاکستان کو مشکلات سے نکال کر ترقی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔

عوام چاروں صوبوں میں سیاسی جماعتوں کی کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کریں کہ انہوں نے کس کو ووٹ دینا ہے، کرک میں خواتین کیلئے یونیورسٹی کیمپس بنائیں گے، جہاں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں مجبوراً لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے، مسلم لیگ (ن)کے منصوبے نواز شریف اور (ن) لیگ کا وژن ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کرک پہنچے، گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔

وزیراعظم نے نیشپا تیل و گیس اور ایل پی جی منصوبے کا افتتاح کیا، نیشپا آئل اینڈ گیس منصوبے سے روزانہ 98ملین مکعب کیوبک فٹ گیس حاصل ہو گی، ایل پی جی ریکوری پلانٹ سے روزانہ 370میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل ہو گی، منصوبے سے روزانہ 18ہزار 400بیرل تیل بھی حاصل ہو گا، منصوبوں کی وجہ سے تیل اور گیس کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام شرکاء کا خوش آمدید کہنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مھے خوشی ہے کہ یہاں آ کر او جی ڈی سی نے یہ پلانٹ مکمل کیا ہے، یہ 4منصوبے تھے، جو نامکمل پڑے تھے اور اربوں کا نقصان ہو رہا تھا، او جی ڈی سی کے افسران کو مبارکباد دیتا ہوں کہ منصوبہ مکمل ہوا، سب نے بہت محنت سے کام کیا اس منصوبے پر، یہاں پر کوئی کمپنی کام کرنے کو تیار نہیں تھی۔

مشکلات کے باوجود ہم نے اس منصوبے کو مکمل کیا، یہ معمولی منصوبہ نہیں، یہاں سے ہر سال 60ارب روپے کی آمدنی ہو گی، 42ارب رائیلٹی کے پی حکومت کو ادا کی گئی ہے، 7ارب کی گیس نکلتی ہے جو کہ کرک میں ہی استعمال ہوتی ہے، پرویز خٹک کو کہتا ہوں کہ یہ آپ کی گیس ہے اس کو ضائع ہونے سے بچائیں،ہم نے ان کو کہا کہ خرچہ آدھا آدھا کرتے ہیں ، آدھا خرچہ وفاقی حکومت دے گی، اس سے گیس چوری میں کمی آئے گی۔

گیس چوری کسی کے مفاد میں نہیں ہے، یہ 20ارب روپے کا پلانٹ لگا ہے جو معمولی نہیں ہے، فائدہ اور نقصان ہمارے لئے ہی ہے، یہ پلانٹ 400ٹن ایل پی جی بنا رہا ہے، آج ملک میں 1800ٹن ایل پی جی پیدا ہو رہی ہے اور کسی کو سیاسی رشوت کے طور پر ایک ٹن بھی نہیں دی جا رہی، 10ارب روپے آمدن پاکستان کو اس منصوبے سے حاصل ہوتے ہیں، اس کو ماضی کی حکومتوں کا فرق آپ کے سامنے ہے۔

یہ پلانٹ پہلے بھی بنائے جا سکتے تھے، ہم نے ایک دن کے اوپر کبھی فائل روک کر نہیں رکھی، ہمیں ملکی مفاد عزیز تھا، ہم چار پلانٹ مکمل کرنے کے قابل ہوئے، ایل پی جی، تیل اور گیس ریکارڈ اس منصوبے سے حاصل ہو رہا ہے، جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں بحران تھا، ہم نے لوڈشیڈنگ کو ختم کیا، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، جہاں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں مجبوراً لوڈشیڈنگ کرنی پڑتی ہے۔

ملک کے 6فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ہے لیکن بجلی ہمارے پاس موجود ہے، یہ نواز شریف اور (ن)لیگ کا وژن تھا جس کو ہم نے پورا کیا، گیس کی کمی کی شکایات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، ملک میں بجلی بحران ختم ہو گیا ہے جس پر آئی ایم ایف نے بھی رپورٹ دی، ہم نے محنت کی اور کمپنیوں کو سہولیات دیتے ہیں، یہ کمپنیاں اپنی استعداد کو بڑھا رہی ہیں، جس کا فائدہ ملک کو ہوتا ہے، یہ تیل اور گیس ملک میں باہر سے لائیں تو ڈالر لگتے ہیں۔

پاکستان کے مسائل حل ہو رہے ہیں، تیزی سے سب کو نظر آرہا ہے، یہ او جی ڈی سی کی کامیابی ہے، جس پر ایک ماہ کے بونس کا اعلان کرتا ہوں، ہمارا کام یہاں ختم نہیں ہوا، گیس اور تیل کے شعبے میں ہم نے تاریخی کام کئے ہیں، پاکستان نے چار ماہ سے کوئی فرنس تیل امپورٹ نہیں کیا کیونکہ ہم اسے ملک سے نکال رہے ہیں، ان کاموں کو بہت پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا، یہ صرف (ن) لیگ کا کارنامہ ہے کہ ہر منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور منصوبے مکمل ہو ہے ہیں، ہم نے 1700کلومیٹر موٹرویز کے منصوبے شروع کئے ہیں جو تیزی سے مکمل ہورہے ہیں۔

بجلی کے گھر بن رہے ہیں تیزی سے، پاکستان کو مشکلات سے نکال کر ترقی کے راستے پر ڈالا گیا ہے، جون 2018میں عوام فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے شائستگی والوں کو ووٹ دینا ہے یا گالیاں دینے والوں کو، ہر جماعت کے پاسایک صوبہ سے عوام دیکھ لیں کہ کس نے کام کئے، جو باتیں عدالتوں میں یا میڈیا میں ہوتی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، حیثیت عوام کی ہے جو اپنا فیصلہ سناتے ہیں، بجلی کے جو منصوبے رہ گئے ہیں ان کو بھی وفاقی حکومت پورا کرے گی، ہم نے ہر ضلع کے اندر یونیورسٹی بنانے کی پالیسی بنائی، کرک میں وویمن یونیورسٹی کا کیمپس بنائیں گے، اس ضلع کے اندر ہم ہیلتھ کارڈ پروگرام بھی شروع کریں گے جس سے غریبوں کو صحت کی اچھی سہولیات ملیں گی۔