کراچی۔ داعش کے عالمی نیٹ ورک کیلئے کام کرنے دہشت گرد سیف الاسلام خلافتی کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کی مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہیے جبکہ سیکیورٹی اداروں نے کٹی پہاڑی کے علاقے میں موجود مختلف مساجداور اشخاص پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔دوسری جانب سے گرفتار دہشت گردنے دوران تفتیش اہم انکشاف کیئے ہیں مبینہ دہشت گرد سیف الاسلام خلافتی نے انکشاف کیا ہے کہ داعش کا سوشل میڈیا نیٹ ورک پاکستان میں مضبوط کیا جارہا ہے۔
یہ نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب نامعلوم مقام سے چلایا جارہا ہے۔تفصیلات کے مطابق دہشت گرد سیف الاسلام کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیاہے ۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کی نشاندہی پر کٹی پہاڑی کے علاقے میں موجود مختلف مساجداور اشخاص پر نظر رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزم نے مسجدوں کے ذریعے متعدد افراد کوداعش میں شمولیت اختیارکرنے کی ترغیب بھی دی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے رابطے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں سے بھی ہیں۔ دہشت گرد سیف الاسلام خلافتی نے ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات کیا کہ داعش سوشل میڈیا نیٹ ورک کو باباجانی نامی دہشت گرد چلا رہا ہے، جس نے نیٹ ورک سے جڑے دہشت گردوں کو گرفتاری سے بچانے کے لیے خاص سافٹ ویئر تیار کراکے دیا تھا۔ایف آئی اے کے ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے تشدد اور قتل کی کچھ وڈیوز بھی ملی ہیں۔
ان وڈیوز کو سوشل میڈیا پر گرفتار دہشت گرد نے اپلوڈ کرنا تھاتاہم اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کاآبائی تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب سے ہے۔ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے انکشافات کے بعد تحقیقات کا دائرہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان تک وسیع کردیا گیا ہے، شہر میں دہشت گردوں کے ملنے کا مرکز کٹی پہاڑی کے قریب تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے گرفتار ملزم ایک اور کالعدم تنظیم کے لیے کام کرتا تھا اور اسے اور اس سے پہلے گرفتار خلیل الرحمان کو سوشل میڈیا کی جانب مولوی نور محمد نامی شخص لایا تھا۔
168









