48

عدالت نے عمران خان کو بڑاریلیف دیدیا

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سربراہ پی ٹی آئی کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے تمام مقدمات میں ضمانتیں کنفرم کردی اور کیس کی سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی۔ 

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی 8 مقدمات میں ضمانتوں کی درخواست پر سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے کی۔ سابق وزیر اعظم  وکیل سلمان صفدر کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کےجج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیئے کہ باقی دونوں ججز نے مجھے 4 جولائی کی تاریخ بتا دی ہے،اس لیے ہم ایک دن رکھتے ہیں کیونکہ سکیورٹی انتظامات اور دیگر معاملات کرنے ہوتے ہیں۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمیں 17 کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانتیں ملیں، 18 کو ہم آپکے پاس آگئے،5 مقدمات تھے جن میں ہم نے آپ سے ضمانت لینی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ایما کی دفع پر بھی کوئی ثبوت نہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے کبھی پبلک کو اشتعال کی جانب نہیں اکسایا۔

چیرمین پی ٹی آئی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ میرے خلاف سب ایما کے مقدمات ہیں،میرے خلاف کوئی ایک ایما کا ثبوت دےدیں،یعنی کوئی بھی کچھ کہےگا تو مجھ پر مقدمہ درج ہوگا؟ایسے ایما پر مقدمات درج کرکے جمہوریت ختم کردیں گے،پرامن احتجاج میرا آئین میرا حق دیتاہے،ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ پر وزیراعظم برطانیہ پکے خلاف احتجاج ہوتاہے۔پچاس سال سے قوم جانتی ہے، ایک بھی کیس نہیں ہوا,2سالوں میں 160 کیسز مجھ پر ہوگئے،واحد سیاسی جماعت ہے جو انتخابات چاہ رہی تھی اگر انتخابات چاہتےہیں تو کیوں انتشار چاہیں گے،خاتون جج واکی بات جوش خطابت تھی، بعد میں معذرت بھی کی،میں نے کہا  خاتون جج کے خلاف لیگل ایکشن لیں گے،مارچ کو ریلی کی اجازت لی لیکن ایک دم دفعہ144 لگا دی گئی۔

چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک دم پولیس واٹر کینن لے آئی، میں نے ریلی کینسل کردی،میرے گھر وارنٹ لے کر آئے، 24گھنٹے میرا گھر پر حملہ رکھا،میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچا تو مجھے وکلاء نے کہاکہ مجھے حراست میں لینے لگے ہیں،میں نے ویڈیو بیان میں کوئی اشتہال نہیں پھیلایا، میں نے کہا حراست میں لینے لگے ہیں،مجھے معلوم ہی نہیں کہ لوگ کہاں سے آئے، پولیس نے شیلنگ شروع کردی،4گھنٹے مجھے لگے جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے پر پہنچنے میں،میں ضمانت کروانے آیا تھا، پولیس نے پتھراؤ کیا۔

چیرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ میری تو گاڑی جوڈیشل کمپلیکس میں گھسی ہی نہیں تھی،جوڈیشل کمپلیکس میں اس دن رینجرز موجود تھی، ماحول ہی کچھ اور تھا،مجھے وکلاء نے کہا کہ نکلو جوڈیشل کمپلس سے کیونکہ ٹریپ ہے،میری جماعت کا نام تحریک انصاف ہے یعنی قانون کی بالادستی،9 مئی کی تحقیقات ہوں گی تو واضح ہوگاکہ پولیس نے خود گاڑیاں جلائی ہیں،تحریک انصاف کے کسی کارکن نے گاڑی نہیں جلائی، ویڈیوز موجود ہیں۔

سلمان صفدر نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق ایما کے واضح ثبوت موجود ہونے چاہیئں،درخواست گزار کی کوئی active participation نہیں ہے،درخواست گزار موقع پر موجود نہیں، نہ ہی کوئی active participation ہے،وکیل سلمان صفدر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کچھ کیسز میں یہ 109 لگانا بھول گئے ہیں،سلمان صفدر کی جانب سے مقدمات کی ایف آئی آرز پڑھی جا رہی ہیں،چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں وکیل سلمان صفدر نے دلائل مکمل کرلیے۔

انسداددہشتگردی عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ 5 مقدمات میں شریک ملزمان کی ان ہی گراؤنڈز پر ضمانت کنفرم ہوئی۔

وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت سے اجازت لے کر چیئرمین پی ٹی آئی اپنی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس لاتے تھے،عدالتی پیشی کے علاوہ کبھی جوڈیشل کمپلیکس آئے ہی نہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالتی پیشی پر اشتعال کیوں پھیلانا؟مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کردار کیا ہے؟ کچھ ذکر نہیں۔

اے ٹی سی عدالت نے استفسار کیا کہ ہجوم کی بات الگ ہے لیکن ایک ملزم نے تو عدالتی پیشی پر آنا ہی ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ کیمرے، بینچ، گیٹ توڑنے کا الزام ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے تو نہیں توڑے،جیسے ہماری پراسیکیوشن ہائی جیک کرلی، ویسے عدالت کا اختیار بھی چھین لیا پولیس نے،آپ پرچہ دیتے، یہ کون ہوتے ہیں مقدمہ درج کرنے والے؟پراسیکیوشن نے ایڈمنسٹریٹر جج کا بھی اختیار لےلیا۔

اےٹی سی جج نے ریمارکس دیئے کہ جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ وقوعہ جوڈیشل کمپلیکس سے باہر کاہے،اعلیٰ عدلیہ کے واقعات کا ذکر سیشن کورٹ میں نہ کیجیےگا،اعلیٰ عدلیہ کے واقعات سپریم کورٹ میں کرلیں،سیشن عدالت ماتحت عدالت ہے۔

پراسیکیوٹر نےکہا کہ سلمان صفدر کے تمام کیسز میں دلائل ایک ہی ہیں۔

اے ٹی سی عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ 2 کیسز میں 109 نہیں ہے، باقی میں ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ میں ابھی آپ کو دلائل میں variety دیتا ہوں،مقدمات میں کوئی جواب ہی نہیں بنتا کیونکہ الزام کچھ ہے ہی نہیں،پولیس کہتی ہے چیئرمین پی ٹی آئی درکار ہیں کیونکہ مقدمے میں نامزد ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عدالت انصاف لینے آتے ہیں اور پولیس اشتعال انگیزی کرتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ہوئی جس پر سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیا،میں نے ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کو بائیو میٹرک کروانے کے لیے بھیجا۔

اےٹی سی جج نے استفسارکیا کہ آپ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ خود کیوں گئے؟

وکیل صفائی نے کہا کہ میں نے اپنا منشی اور جونیئر وکلاء بھیجے جن کو ڈنڈے پڑے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے دلائل کی تیاری کیلئے وقت دینے کی استدعا کی گئی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے آپ 30 منٹ لے کیں، پونے 3 بجے اپنے دلائل دے دیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت میں نماز کا وقفہ اور سماعت پونے 3 بجے تک ملتوی کردی۔

سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سینیئر پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل دینا شروع کردیئے۔

پراسیکیوٹرنے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے بنیادی حقوق کےتحفظ کیلئے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے،تحقیقات کے دوران درخواست گزار معصوم ثابت نہیں ہوئے،درخواست گزار کو بدنیتی کے الزام لگانے سے پہلے بدنیتی کے ثبوت دینا ہوں گے،سینئر پراسیکوٹر نے مختلف عدالتی فیصلوں کےحوالے دینا شروع کردیئے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی آر میں تفصیلات نہ ہونا اس کیے ہے کہ ایف آئی آر کوئی انسائکلوپیڈیا نہیں ہوتی،ایف آئی آر قانونی کارروائی کے آغاز کیلئے ہوتی ہے،ایف آئی آر میں تفصیلات کے نہ ہونے سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا،دیگر شریک ملزمان اور کارکنان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر مختلف اوقات اور مقامات پر اشتعال انگیزی کی،چیئرمین پی ٹی آئی کو پارٹی میں کمانڈنگ اتھارٹی حاصل ہے، وہ جو کہتے ہیں ہوتا ہے،چشم دید گواہوں کے بیانات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی گاڑی میں بیٹھ کر کارکنوں کو ہدایات دے رہے تھے۔

پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ درخواست گزار موجود ہونے کے باوجود کارکنوں کو جرائم کرنے سے نہیں روک رہے تھے،درخواست گزار کی موجودگی میں جوڈیشل کمپلیکس اور اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں عدالت نے واضح کیا کہ ان مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات لگتی ہے،کیا قانون میں کسی کو عمر رسیدہ ہونے کے باعث غیر معمولی ریلیف فراہم کرنے کا ذکر ہے؟ 

پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پرانسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم کی ضمانت کنفرم کردی اور عمران خان کی تمام مقدمات میں 4 جولائی تک توسیع کردی گئی۔