117

کروڑوں روپے لے کر فرار ہونیوالے ڈرائیور کے انکشاف نے سب کو چونکا دیا

گزشتہ روز کروڑوں روپے لے کر فرار ہونے والے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا جس کے صحافیوں سے گفتگو میں انکشاف نے سب کو چونکا دیا۔

گزشتہ روز پنجاب کے ضلع جڑانوالہ کے شہر میں ڈرائیور 4 کروڑ 96 لاکھ روپے لے کر فرار ہوگیا تھا جس کو پولیس نے سہولت کار سمیت گرفتار کرکے اس کے قبضے سے مسروقہ رقم برآمد کرلی۔ اس حوالے سے آر پی او فیصل آباد معین مسعود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے صرف 8 گھنٹوں میں ملزم ڈرائیورعبدالعزیز اور سہولت کار حنیف کو گرفتار کرکے بڑی رقم برآمد کی ہے۔

اس موقع پر ملزم ڈرائیور عبدالعزیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کیش وین چوری کرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن غربت کے باعث اچانک ذہن بنا۔

عبدالعزیز نے بتایا کہ ہماری سیکیورٹی ایجنسی 23 ہزار روپے تنخواہ دے رہی ہے، 2 سال سےملازم ہوں، تنخواہ بہت تھوڑی ہے، بار بار تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا لیکن کمپنی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

ڈرائیور کے مطابق وہ بینک کا مقروض ہے اور جس بینک سے قرض لیا اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھی خوف آتا تھا، غربت سے مجبور ہوکر کیش وین کو پنکچر لگوانے کے بہانے لے کر بھاگا، اندازہ نہیں تھا کہ گاڑی میں رقم کتنی ہے؟ ان پیسوں سے گوجرہ میں گھر لینے اور باقی پیسے زمین میں دبانے کا ارادہ تھا۔

 سیکیورٹی عملے کی غفلت، وین ڈرائیور کروڑوں روپے لیکر فرار

عبدالعزیز نے بتایا کہ وہ گاڑی لے کر بھاگنے کے بعد کھرڑیانوالہ تک اپنی کمپنی کے ساتھ رابطے میں رہا پھر اس نے موبائل فون بند کردیا، ساتھی حنیف کو 2 لاکھ روپے دیے تھے جو اس نے واپس کر دیے۔