65

العریبیہ شوگر مل کے اثاثے منجمد کرنے کا اقدام چیلنج

لا ہو ر۔حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی ملکیتی العریبیہ شوگر مل کیاثاثہ جات منجمند کرنے کا اقدام عدالت میں چیلنج کردیا گیا۔العریبیہ شوگر مل کی جانب سے لاہورہائی کورٹ میں دائر درخواست میں چیرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیرمین نیب کو سیکشن 12 کے تحت کو نیم عدالتی اختیار دیا گیا ہے اور قانون کہتا ہے کہ جس کو یہ اختیار دیا جائے وہ اسے آگے منتقل نہیں کر سکتا۔عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ کیس میں چیرمین نیب کے اختیارات ڈی جی نیب نے استعمال کیے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا اور نیب لاہور نے خلاف قانون اقدام اٹھاتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل مل کے اثاثہ جات کو فریز کیا۔متن میں درج ہے کہ مذکورہ کمپنی کی شئیر ہولڈر کے علاوہ قانونی طور پر الگ حیثیت ہے، کمپنی کے اثاثہ جات سے شئیر ہولڈر اور ڈائریکٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

 اس معاملے میں کمپنی کی ایک الگ قانونی حیثیت ہے اور ملزمان کا اثاثہ جات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کمپنی ناں ہی مجرم ہے اور ناں ہی کسی کی رشتہ دار ہے، کمپنیز ایکٹ کی شق 41 بی کے تحت جب تک ایس ای سی پی انکوائری ناں کرلے تب تک ریفرینس فائل نہیں کیا جا سکتا ہے۔نیب بیورو کی جانب سیدرخواست گزار کی کمپنی پر مانیٹرنگ آفیسر تعینات کیا گیا جو غیر قانونی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف، سلمان شہباز سمیت دیگر کیخلاف نیب لاہور میں انکوائری زیر التوا ہے جب کہ اس سے قبل کوئی بھی ریفرینس یا انکوائری التوا میں نہیں ہے۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ  چیرمین نیب سمیت دیگر کو کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سے روکا جائے اور نیب کا 25 نومبر 2019 کا آڈرغیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔