لاہور-چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مقدمات میں خواتین کی ضمانت میں نرمی کی ضرورت ہے، اعلیٰ عدلیہ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے۔ لاہور میں تیسری ویمن ججز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ مقدمات میں خواتین کی ضمانت کے لیے کچھ نرمی کی ضرورت ہے۔ اس کانفرنس سے خواتین کی عدلیہ کے شعبے میں حوصلہ افزائی ہو گی، معاشرے میں خواتین کا کردار بڑھتا جا رہا ہے، خواتین مردوں کے غالب معاشرے میں کام کر رہی ہیں اور اب ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانا ہو گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جلد خواتین ججز کی تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں خواتین ججز کو تعینات کیا جائیگا، انھوں نے کہا کہ خواتین ججز نے پچیدہ مقدمات میں قانون کے مطابق فیصلے دے کر اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، اب ہمیں بھی خواتین اور مرد ججز میں فرق ختم کرنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ کمرہ عدالت میں ججز کے اچھے رویے سے لوگ عزت کرتے ہیں، خواتین ججز ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنا کام کریں، جرائم کے مقدمات میں خواتین سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، قرآن پاک میں بار بارانصاف کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جج بننے کے بعد خواتین کا رویہ بھی مردوں جیسا ہو جاتا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتوں میں 300 سے زائد خواتین ججز اپنا کام سر انجام دے رہی ہیں۔ عدالتیں 50 سال میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کررہی ہیں۔انکا کہنا تھا کہ ججز کانفرنس کا انعقاد ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اقلیتوں سمیت ہرشہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں جب کہ قرآن پاک میں بار بار انصاف کی فراہمی کی تلقین کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔









