اسلام آباد۔ وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہاہے کہ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی پالیسی کے تحت 2025تک 8ہزار میگاواٹ اور 2030تک 20ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی جائے گی، پاکستان میں 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے شعبہ میں موجود ہیں،توانائی کے شعبے میں ریونیو میں 229ارب کا اضافہ ہوا ہے، گزشتہ دور حکومت میں متبادل ذرائع کے توانائی کے منصوبوں کو ختم کر کے ایل این جی کے مہنگے منصوبے لگائے گئے، متبادل ذرائع سے توانائی پیدا کرنے کی پالیسی کو توثیق کیلئے مشترکہ مفادات کونسل میں پیش کیا جائے گا، کارکے تنازعہ پرحکومت نے کوئی پیسہ ادا نہیں کیا، قوم کیلئے خوشخبری ہے، عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے پاکستان پر1.2ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہو گیا ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ نئی پالیسی میں کپیسٹی پیمنٹ کا سسٹم ختم کردیا ہے،
متبادل ذرائع سے توانائی کی پالیسی میں اپ فرنٹ ٹیرف سسٹم ختم کیا گیا ہے،مقابلے کی بنیاد پر نیلامی کے ذریعے سب سے کم ٹیرف کی بولی دینے والے کو کنٹریکٹ دیا جائے گا،2030تک 63فیصد بجلی پانی اور متبادل ذرائع سے پیدا کی جائے گی،پالیسی کے تحت توانائی کے شعبے میں استعمال ہونے والی مشینری کی پاکستان میں مینوفیکچرنگ بھی پالیسی کا حصہ ہے، توانائی کے منصوبوں کیلئے کمپنیوں کی مرضی کی جگہ اورفیول کا انتخاب کا آپشن ختم کردیا گیا ہے،بجلی کی فی یونٹ قیمت نیچے لائیں گے۔
بدھ کو وزیر توانائی عمر ایوب خان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، سیکرٹری توانائی عرفان الٰہی و دیگر حکام کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متبادل ذرائع سے توانائی پالیسی ایک انقلابی پالیسی ہے اس سے بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی، مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں مہنگی بجلی سسٹم میں ڈالی اور ایل این جی سے بننے والی بجلی کی قیمت 17روپے فی یونٹ آرہی ہے جبکہ متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی ماحول دوست، صاف ستھری اور سستی ہو گی،2025تک 8ہزار میگاواٹ بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کریں گے اور 2030تک 20ہزار میگاواٹ بجلی متبادل ذرائع سے پیدا کر کے سسٹم میں شامل کی جائے گی،اس سے جاری کھاتے کے خسارے میں بھی کمی آئے گی،مہنگا فیول امپورٹ نہیں کرنا پڑے گا،صنعتوں کو فروغ ملے گا،برآمدات میں اضافہ ہو گا،کاروبار میں ترقی ہو گی، ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے،متبادل ذرائع سے توانائی کے شعبے میں پاکستان میں 40ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقعے موجود ہیں،17ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ونڈ کے 12منصو بوں میں آگئی ہے،اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی اور رابطہ کیا ہے،توانائی کے شعبے میں ریونیو میں 229ارب کا اضافہ ہوا جس سے 111ارب روپے چوری کی روک تھام سے اضافہ ہوا جبکہ 118ارب روپے ٹیرف کی وجہ سے اضافہ ہوا، توانائی کے شعبے میں بہتری آرہی ہے،80فیصد فیڈرز بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پاک ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ متبادل ذرائع سے توانائی کی پالیسی پر 6ماہ تک تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین سے مشاورت کی گئی کہ دنیا کی بہترین پالیسی ہے،اس میں اپ فرنٹ ٹیرف سسٹم ختم کیا گیا ہے،مقابلے کی بنیاد پر نیلامی کے ذریعے سب سے کم ٹیرف کی بولی دینے والے کو کنٹریکٹ دیا جائے گا،2030تک 63فیصد بجلی پانی اور متبادل ذرائع سے پیدا کی جائے گی۔









