32

رمضان شوگر ملز : شہباز شریف، حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر

قومی احتساب بیورو (نیب) نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کر دیا ۔ احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے دائرریفرنس میں حمزہ شہباز اور شہباز شریف کو نامزد کیا گیا ہے۔

دوران سماعت عدالت نے حمزہ شہباز کو کٹہرے میں طلب کیا اور کارکنوں کی حمزہ شہباز کے ساتھ سیلفیوں پر شدید اظہار برہمی کیا۔ سماعت کے دوران جج امجد نذیر چوہدری نے حمزہ شہباز سے مکالمے میں کہا کہ مسٹر حمزہ ادھر فوری ادھر کٹہرے میں آئیں جس پر حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ آپ کیسے بات کر رہے ہیں؟'۔

اس پر جج امجد نذیر چوہدری نے کہا کہ آپ عدالت کا ڈیکورم خراب کر رہے ہیں، آپ پریس کانفرنس کرنےآتے ہیں؟ جس پر حمزہ شہباز نے سوال کیا کہ آپ مجھ سے کیسے بات کر رہے ہیں؟

جج امجد نذیر چوہدری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'عدالتی کارروائی کرنی ہے یہ سیلفیاں اور یہ سب کیا ہو رہا ہے، جب تک حمزہ پیچھے بیٹے رہیں گے کیس نہیں چلے گا'۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ میں عدالت کا احترام کرتا ہوں ، میں ان لوگوں کو اور کارکنوں ساتھ لے کر نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ' ہجوم میں آ رہا ہوں، لوگ سلام کرتے ہیں اس کا جواب دینا اسلام میں ہے، جج صاحب مجھے اپ کی بات کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں لگا'۔ عدالت میں موجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن رانا مشہود نے کہا کہ حمزہ شہباز رکن صوبائی اسمبلی ہیں، جتنے بھی ملزم آتے ہیں 90، 90 روز ملزموں کو نیب کے پاس رکھے جاتے ہیں۔

رانا مشہود نے کہا کہ اس طرح تو قاتلوں کو بھی نہیں بلایا جاتا جیسے آپ نے حمزہ شہباز کو بلایا ہے۔ جج امجد نذیر چوہدری نے ریمارکس دیے عدالت کا ڈیکورم سب سے پہلی چیز ہے، اگر عدالت کا ڈیکورم خراب کریں گے تو اس طرح کام نہیں چلے گا۔

جج امجد نذیر چوہدری نے حمزہ شہباز کو حکم دیا کہ آئندہ آپ جب بھی عدالت آئین سیدھا کٹہرے میں آئیں گے ۔ بعدازاں عدالت نے شہباز شریف سے متعلق استفسار کیا جس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ شہباز شریف کی درخواست حاضری معافی دائر کی ہے۔

جس پر عدالت نے شہباز شریف کی رمضان شوگر مل میں آج کی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور کر لی۔ واضح رہے کہ 18 فروری کو قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس میں نیا ریفرنس دائر کیا تھا۔

اس ریفرنس میں صرف دونوں ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ رمضان شوگر ملز کے لیے انہوں نے غیر قانونی طور پر نالہ تعمیر کروایا۔ عدالت میں دائر ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے اس نالے کی تعمیر سے قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، لہٰذا دونوں ملزمان کو سزا دی جائے۔