78

سانحہ تیزگام ٗڈی این اے کے بعد 40 میتیں ورثاء کے حوالے

رحیم یار خان۔ شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال (ایس زیڈ ایم سی ایچ) کی انتظامیہ نے تیزگام ایکسپریس اتشزدگی واقعے میں جاں بحق ہونے والے 40 افراد کی میتیں ان کے اہلِ خانہ کو فراہم کردیں۔ رپورٹ کے مطابق لاشیں پنجاب فرانزیک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کی جانب سے ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کی گئیں۔ہسپتال کے فوکل پرسن رانا الیاس نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 3 نومبر کو پی ایف ایس اے ٹیم نے ہسپتال میں کیمپ قائم کیا تھا جو ہلاک ہونے والے 57 مسافروں کے ورثا سے ڈی این اے کے نمونے لے کر واپس لاہور چلی گئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈی این اے کی 40 رپورٹس موصول ہونے کے بعد تابوتوں کو ورثا کے حوالے کردیا۔ان کا کہنا تھا 40 مسافروں میں سے 26 کا تعلق میر پورخاص، 4 کا کراچی، عمر کوٹ اور شکار پور سے 3، 3 سانگھڑ سے 2 اور ایک ایک کا تعلق ٹنڈو اللہ یار اور لودھران سے تھا۔فوکل پرس نے بتایا کہ ریلوے پولیس حکام اور رحیم یار خان کے اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایات کے تحت اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے میتوں کی ابائی علاقوں میں منتقلی کے لیے بلا معاوضہ ایمبولینس سروس فراہم کی۔دوسری جانب ورثا کی اکثریت وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے کی ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن حکام کے پاس ان کی بات کا کوئی واضح جواب نہیں تھا۔یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب گیس سلنڈر پھٹنے سے خوفناک اگ لگ گئی تھی، جس کے باعث 74 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے تھے۔

بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش ایا تھا۔حکام نے بتایا تھا کہ متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور اتشزدگی کی لپیٹ میں انے والی 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھیں جن میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے اور ان کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھے۔عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا تھا جس کے اواز سن کر متعدد مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے تھے۔