73

وزیراعظم کا کرتارپور آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کےذریعے بھارت سے پاکستان آنے والے سکھ زائرین کے لیے بڑی رعایتوں کا اعلان کردیا۔

وزیراعظم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کرتار پور زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس کے لیےصرف درست شناختی دستاویزات ہی کافی ہوں گی۔

Imran Khan@ImranKhanPTI

کرتارپور زیارت کیلئے آنےوالے سکھوں کیلئے میں نے 2 شرائط ختم کردی ہیں:
1.انہیں پاسپورٹ درکار نہیں ہوگا،محض درست شناخت ہی کافی ہوگی۔
2.انہیں 10 روز قبل اندراج کی زحمت بھی نہ اٹھانا ہوگی۔
مزید یہ کہ افتتاح اور گروجی کے550ویں جنم دن کےموقع پربھی کوئی واجبات وصول نہیں کئے جائیں گے۔

19.7K

9:01 AM - Nov 1, 2019

Twitter Ads info and privacy

6,307 people are talking about this

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کے لیے 10 روز قبل اندراج کروانے کی بھی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم نے اپنی ٹوئٹ میں مزید اعلان کیا کہ کرتارپور راہداری کے افتتاحی دن اور گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر زائرین سے کوئی واجبات بھی وصول نہیں کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد اور دہلی کے مابین طویل اور دشوار مذاکرات کے بعد بالآخر 24 اکتوبر کو کرتار پور راہداری فعال کرنے کے سمجھوتے پر دستخط ہوئے تھے اور رواں ماہ کی 9 تاریخ کو وزیراعظم خود اس کا باضابطہ طور پر افتتاح کریں گے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گرردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔

18 نکات پر مشتمل معاہدے کے تحت 5 ہزار سکھ یاتری، انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال میں کرتارپور آسکیں گے۔ مزید یہ کہ حکومت پاکستان یاتریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ جاری کرے گی اور ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس فیس وصول کی جائے گی، تاہم سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

معاہدے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا کہ راہداری بند کرنے کی صورت میں دونوں ملک ایک دوسرے کو نوٹی فکیشن کے ذریعے آگاہ کریں گے۔ کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

پاکستان نے کرتارپور میں گردوارے پر بے پناہ ترقیاتی کام کیے ہیں—تصویر: عمران خان فیس بک

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ 3 سے 4 کلومیٹر کا ہے۔ سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے اور بابا گرونانک کا جنم دن منانے کے لیے ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔ بھارت اور پکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔ خیال رہے گزشتہ برس اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے اس تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے اور ان سے غیر رسمی گفتگو کی تھی۔ اس حوالے سے سدھو نے بتایا تھا کہ جب ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان گرو نانک صاحب کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق سوچ رہاہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان فوج کے سربراہ اس ایک جملے میں انہیں وہ سب کچھ دے گئے جیسا کہ انہیں کائنات میں سب کچھ مل گیا ہو۔ بعد ازاں بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس میں شرکت کے لیے نوجوت سدھو خصوصی طور پر پاکستان آئے تھے۔

جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کرتار پور راہداری کے ذریعے آنے والے زائرین کے لیے انتظامات کے حوالے سے سمجھوتے کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور 20 اکتوبر کو معاہدہ طے پاگیا۔ بعدازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ابضابطہ طور پر گرونانک کے 55ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے خواہشمند سکھ یاتریوں کے 9 نومبر کو راہداری کا افتتاح کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔