46

خیبر پختونخوا ہائی ویز پر سیٹلائٹ ریسکیو سٹیشن قائم کرنیکا فیصلہ

پشاور۔خیبرپختونخوا حکومت نے ہائی ویز اور موٹرویز پر 8 سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔صوبائی حکومت کے حکام نے بتایا کہ مذکورہ منصوبے کا مقصد ٹریفک حادثات میں متاثرین کی جان بچانا اور معذوری کے تناسب کو کم سے کم کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے پر امریکی ادارہ برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ 13کروڑ 90 لاکھ روپے مالی تعاون پیش کرے گا۔حکام نے بتایا کہ صوبے میں ہائی ویز پر مربوط ریسکیو سروس کا کوئی نظام موجود نہیں ہے اور قریبی اضلاع سے ہنگامی ٹیمیں جائے حادثہ پر بھیجی جاتی ہیں جنہیں پہنچنے میں تاخیر کا سامنا ہوتا اور اس طرح متعدد جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ریلیف، ری ہبلیٹیشن اینڈ سیٹلمنٹ (آر آر ایس) کا محکمہ سیٹلائٹ ریسکیو اسٹیشن قائم کرے گا۔آر آر ایس کے سیکریٹری محمد عابد مجید نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے حادثات کی شرح زیادہ ہے۔محمد عابد مجید نے بتایا کہ ہر ریسکیو سینٹر پر بڑی ایمبولنس ہوں گی جس میں 6 سے 8 متاثرین آسکیں گے۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ ضروری طبی سامان سمیت تربیتی یافتہ عملہ ہر وقت موجود ہوگا۔عابد مجید کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے نے ابتدائی طور پر 8 ریسکیوسینٹر کی تجویز دی جس کی فنڈنگ یو ایس ایڈ کرے گا اور حکومت طبی عملہ فراہم کرے گی۔آر آر ایس کے سیکریٹری نے بتایا کہ ریسکیو سینٹر پر 24 گھنٹے سروس فراہم کی جائیں گی اور ان کا محکمہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی سے رابطہ کرے گا تاکہ ایمبولینس کے لیے شیڈز اور شیپنگ کنٹینر رکھنے کے لیے جگہ کا حصول ممکن ہے جس میں ریسکیو اسٹیشن قائم ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 پورے منصوبے کو یقینی بنائیگی۔واضح رہے کہ رواں برس فروری میں ضلع کرک میں کار سے ٹکرانے کے بعد مسافر ویگن میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 4 مسافر زخمی ہوگئے تھے۔پشاور سے ڈیرہ اسمٰعیل خان جانے والی وین کرک کے قریب انڈس ہائی وے میں سپنہ بانڈہ کے مقام پر کار سے ٹکرائی جس کے بعد ویگن میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

ویگن میں آگ لگنے سے 13 مسافر جھلس کر جاں بحق ہوئے اور زخمی مسافروں کو امدادی رضاکاروں اور مقامی افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہستپال (ڈی ایچ کیو) کرک منتقل کردیا تھا۔علاوہ ازیں جولائی 2013 میں کرک کے قریب اسی طرح کے ایک حادثے میں ایک ٹرک اور مسافر بس ٹکراگئی تھیں جس کے بعد گیس سلنڈر پھٹنے سے کم ازکم 17 مسافر جھلس کر جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ٹریفک حادثات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس کے مطابق ہر پانچ منٹ کے دوران روڈ حادثوں میں ایک شخص جاں بحق ہوتا ہے یا پھر شدید زخمی ہوکر زندگی بھر کے لیے معذور بن جاتا ہے۔وزارت مواصلات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں روڈ حادثے کے شکار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتے ہیں، جب کہ روڈ سیفٹی کے حوالے سے بہترین ممالک وہ ہیں جہاں حادثے کے شکار افراد 30 دن کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو روڈ سیفٹی کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔پاکستان میں روڈ حادثات میں سب سے زیادہ اموات مشترکہ طور پر خیبر پختونخوا، اسلام ا?باد اور ا?زاد کشمیر میں ہوتی ہیں، دوسرے نمبر پر پنجاب اور تیسرے نمبر پر صوبہ سندھ ہے۔