اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی 20 لاکھ روپے کےعوض منگل تک ضمانت منظور کرلی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست کی جلد سماعت کےلیے شہباز شریف کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے نواز شریف کی صحت سے متعلق نئی رپورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کو مائنر (ہلکا) ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور ان کی جان کو خطرہ ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر طبیعت انتہائی تشویشناک ہے تو بتائیں، کیا فریقین نے لاہور میں ضمانت کی مخالفت کی؟۔ وکیل نے بتایا کہ زیادہ مخالفت نہیں کی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سزا یافتہ قیدی کے معاملے میں صوبائی حکومت کو اختیار ہے وہ سزا معطل کر سکتی ہے، ڈویژن بنچ نے اس معاملے کو منگل کے لیے رکھا ہے، فریقین اور پنجاب حکومت کو بلاکر پوچھ لیتے ہیں، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی تحریر ہے کہ نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے، ایسی صورت میں معاملہ عدالت میں نہیں آنے چاہیے۔
عدالت نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور چئیرمین نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی کوئی نمائندہ مقرر کر کے چار بجے عدالت بھجوائیں، متعلقہ حکام اپنے نمائندے منتخب کرکے رپورٹ پیش کریں۔
ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ رجسٹرارآفس نےبتایاٹی وی چینلزپرڈیل سےمتعلق خبریں نشرکی گئیں جس پر متعلقہ چینلزاوراینکرزکوتوہین عدالت کےنوٹس جاری کرکے آج شام چار بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
بعدازاں کچھ دیر بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست کی سماعت کی۔ رجسٹرار آفس نے بتایا کہ تمام فریقین بشمول چیف سیکرٹری پنجاب، اٹارنی جنرل آفس اور نیب کے پراسیکیوٹر جنرل اور 5 اینکرپرسنز کو فون کرکے عدالتی حکم سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور چئیرمین نیب کے نمائندگان عدالت کو بتائیں کہ وہ نواز شریف کی سزا معطلی کی مخالفت کریں گے یا نہیں؟ مخالفت کی صورت میں حلفیہ بیان دیں کہ اگر نواز شریف کی صحت مزید خراب ہوئی تو بیان حلفی دینے والے ذمہ دار ہوں گے۔
شام 4 بجے حکومتی نمائندے اور اینکرز حامد میر، سمیع ابراہیم، محمد مالک، عامر متین اور کاشف عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ نے اینکرز سے کہا کہ عدالت نےبڑے تحمل کا مظاہرہ کیا، بڑی معذرت کےساتھ آپ کوبلایا، ڈیل کی باتیں ہوتی ہیں توبات عدلیہ پرآتی ہے، مہذب معاشرےمیں ایسانہیں ہوتا، ہم ایک فیصلہ دیتےہیں تو ججزسےمتعلق میڈیاٹرائل اور سوشل میڈیا ٹرائل شروع ہوجاتاہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت سیاسی معاملات میں نہیں الجھناچاہتی، ایک اینکرنےوثوق سےکہاڈیل ہوگئی ہے، بتائیں کون ڈیل کررہاہے؟ کیاوزیراعظم اورعدلیہ ڈیل کاحصہ ہیں؟، کیس بعدمیں عدالت آتا ہے میڈیاٹرائل پہلےہوجاتاہے، ایسی باتیں ججز کو متنازع بناتی ہیں۔ عدالت نے ڈیل سےمتعلق خبروں پراینکرزسےتحریری جواب طلب کرلیا۔
وزیراعلی پنجاب کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان، نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیئر رضوی اور وفاقی حکومت کی جانب سے سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے چئیرمین پیمرا کے نمائندے سے کہا کہ بتائیں ڈیل کون کر رہا ہے، آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست عدالت نہیں آنی چاہئے، یہ حکومت کا اختیار ہے، میڈیکل بورڈ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی حالت تشویشناک اور بیماری جان لیوا ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ آپ لوگ آدھے گھنٹے میں وزیراعلی پنجاب اور چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر عدالت کو بتائیں کہ وہ ضمانت کی مخالفت کریں گے یا بیان حلفی جمع کرائیں گے؟۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر کوئی سزا معطلی کی مخالفت کرے گا تو پھر نواز شریف کی درخواست مسترد کر دیتے ہیں، لیکن اس دوران اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری نیب اور حکومت ہوگی، حکومتی وزراء ذمہ داری عدالت پر ڈالنے کا بیانات دے رہے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس تمام معاملے میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر لینا دینا نہیں تو گورنر کو کیوں ہدایات دی جا رہی ہیں، آپ جذباتی نہ ہوں، یا تو ذمہ داری لیں یا پھر مخالفت نہ کریں، آپ مطمئن کریں کہ منگل تک میاں نواز شریف کو کچھ نہیں ہوگا۔
وفاقی حکومت نے ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے میں ذمہ داری نہیں لے سکتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس متعلق دلائل نہیں سنیں گے، صرف ہاں یا ناں میں جواب دیں، عدالت کے ساتھ سیاست نہ کریں، ملک بھر کے تمام شہریوں کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ آپ درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہاں یا ناں میں جواب دیں، ہر کوئی ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہا ہے، قانون پر عملدرآمد کرنا حکومت پنجاب کی ذمہ داری تھی، ایسا کوئی قیدی جس کی جان کو خطرہ ہے تو ضمانت پر رہا کرنے کا حکومت کو اختیار ہے، اگر آپ تینوں بیان حلفی نہیں دے رہے تو کچھ خرابی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نیب کی سزا 14 سال ہے، سزائے موت کے قیدی کو بھی انسانی ہمدردی کے تحت ضمانت پر رہا کیا جا سکتا ہے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم ابھی ہاں یا ناں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر ضمانت ہوجاتی ہے تو ای سی ایل سے نام کون نکالے گا؟ عدالت نے وزیراعلی پنجاب سے واضح ہدایت لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے جواب میں عدالت کو بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہمیں نوازشریف کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم عمران خان،وزیراعلی پنجاب اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس معاملے پر فیصلہ کریں۔
عدالت نے منگل تک نواز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب کی جانب سے مخالفت نہ کرنے کے بیان پر ضما نت دی گئی۔









