اسلا م آباد۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ داخلی امن کے بغیر خارجی امن ممکن نہیں ہماری داخلی ترجیحات میں،عوام کے لئے معاشی ترقی اور ایک فلاحی ریاست کا قیام مضمر ہے،خارجی محاذ پر ”پرامن ہمسائیگی“ ہمارا مستقل مدعا ومنشور ہے، عالمی معیشت کا مرکز ومحور مغرب سے مشرق کی طرف تبدیل ہورہا ہے، حالات وواقعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ ہماری جستجو کا محور ومرکز ہے، 70 دن سے 80 لاکھ لوگوں کا غیرانسانی لاک ڈاون جاری ہے، پاکستان کی افریقہ اور لاطینی امریکہ سے بھی روابط فروغ پارہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ میں آج خودکو آپ جیسے روشن دماغ، دانشورانہ تجسس رکھنے اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک افراد کے درمیان پاکر بے حد مسرور ہوں۔
مجھے پورا یقین ہے کہ آج کی اس نشست سے علمی بنیادوں پر سوچ کے نئے دریچے وا ہوں گے میں خاص طورپر ائیر مارشل فیض عامر کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے زیر بحث موضوع پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے جس نے تبدیل ہوتے علاقائی اور عالمی حالات میں نہایت اہمیت حاصل کرلی ہے، اکثر پوچھا جاتا ہے کہ بین الریاستی تعلقات میں ہم علاقائی اور عالمی سطح پراپنے قومی وسفارتی مفادات کا تحفظ کیسے کرسکتے ہیں اور انہیں کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ مختصر جواب ہے نہایت ہوشمندی سے۔خارجہ پالیسی کی تیاری ہمیشہ سے پیچیدہ اور وسیع عمل رہا ہے۔
اس میں کلیدی فریقین سے تفصیلی مشاورت درکار ہوتی ہے۔ قومی اختیار کے تمام اجزاء جیسا کہ معاشی قوت، سماجی ہم آہنگی، ادارہ جاتی توازن، فوجی صلاحیت، اتحادیوں کا نیٹ وک، نظریاتی پختگی وہ ند پہلو ہیں جنہیں میں یہاں بیان کررہا ہوں۔یہ وہ اجزا ہیں جو خارجہ پالیسی کی تیاری اور تدریج میں اہم ہیں۔ عمل درآمد کا مرحلہ بھی اتنی ہی مشقت طلب اور صبرآزما ہے۔ انہو ں نے کہا کہبجا طورپر یہ ہمیشہ یاد رہنا چاہئے کہ خارجہ پالیسی ایک موقع نہیں بلکہ ایک عمل ہے یہ مختصر تیز دوڑ کی طرح نہیں بلکہ ایک لمبی دوڑ کی طرح ہے۔
ہم’ہوبیسین ورلڈ‘ میں رہتے ہیں ایسی دنیا جو طوائف الملوکی، تغیر اورسیاسی وتزویراتی عوامل کے دباو میں رہتی ہے۔ یک طرفہ اقدامات، قوم پرستی، اجنبیوں یا مہاجرین سے بیزاری اور عوام کی ملکیت کے اصول تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور غیریقینی پیدا کررہے ہیں۔ یہ منظر دنیا نے دہائیوں میں نہیں دیکھا تھادوسری جنگ عظیم کے بعد جو کثیرالطرفہ انتظامات کئے گئے تھے، وہ طاقتور قوتوں کے نشانے پر ہیں۔ ٹیکنالوجی کی تبدیلی نے انسان کی ہزار سالہ طرز زندگی پر اثرات مرتب کئے ہیں، اس کی رفتار اور شرح میں مسلسل تبدیلیاں ہورہی ہیں اور ہمیں ہر پل ان کاسامنا ہے۔









