35

پشاور ٹرانسفارم پلان شہر کو جدید خطوط پر استوار کر دیگا ٗ وزیر اعلیٰ

پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں انفراسٹرکچر کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے انہوں نے ریگی ماڈل ٹاؤن میں عوام کو سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے خصوصی طور پر زمین کی کلیئرنس یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤ س پشاور میں ٹرانسفارم پشاور پلان کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پشاور کو مثبت تبدیلی سے ہمکنار کرنے کیلئے نہایت پرعزم ہے، اس مقصد کیلئے ایک جامع پلان تجویز کیا گیا ہے جس کا مقصد عوام کو زندگی کی معیاری سہولیات کی فراہمی، جدید انفراسٹرکچر کی ترقی اور خدمات کی فراہمی کے مجموعی نظام میں بہتری لانا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹبلشمنٹ شہزاد ارباب، پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماء جہانگیر ترین، صوبائی وزراء شہرام خان ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، اشتیاق ارمڑ، ہشام انعام اللہ، لیاقت خٹک، وزیر اعلیٰ کے مشیرضیاء اللہ بنگش، کامران بنگش، ایم این اے شوکت علی، ایم پی اے ارباب جہانداد اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو ٹرانسفارم پشاور پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس سلسلے میں بنیادی شعبوں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، ٹریفک مینجمنٹ، خوبصورتی، سروس ڈیلیوری، کھیل اور تخلیقی سہولیات، صفائی اور آب نوشی، بجلی اور گیس، صحت اور تعلیم کی سہولیات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ مذکورہ شعبوں میں پلان پر عمل درآمد کیلئے مختصر، وسط اور طویل مدتی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔اجلاس کو مختلف شعبوں میں جاری اور نئی سالانہ ترقیاتی سکیموں، سکیموں کیلئے مختص وسائل اور تاحال کئے گئے اخراجات سے بھی تفصیلاً آگاہ کیا گیا۔ سڑکوں کے شعبوں میں جاری ترقیاتی سکیم کے تحت پجگی روڈ سے ورسک روڈ تک رنگ روڈ کے گرد ونواح کی ترقی کے لئے ساٹھ ملین روپے مختص کئے گئے ہے، جبکہ سکیم کی مجموعی لاگت پانچ سو ملین روپے ہے۔ مفتی محمود فلائی اوور سے پرانے بڈھنی پل تک روڈ کی توسیع و بہتری کے منصوبے کی مجموعی لاگت 1120ملین روپے ہے، سکیم کے لئے رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پجگی سے لیکر ورسک روڈ تک رنگ روڈ کے شمالی سیکشن کی تعمیر کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں وسط مدتی سکیم موجود ہے جس کی لاگت 6989ملین روپے ہے، سکیم کے لئے موجودہ ترقیاتی پروگرام میں پانچ سو ملین روپے مختص ہے،اسی طرح ورسک روڈ سے ناصر باغ تک رنگ روڈ کے ناپید سیکشن کی تعمیر کے لئے بھی ترقیاتی پروگرام میں سکیم رکھی گئی ہے۔ رنگ روڈ پر انٹر چینجز کے ڈیزائن اور تعمیر کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 1229ملین روپے مختص کئے گئے ہے، 75ملین روپے اس وقت تک خرچ کئے جاچکے ہیں۔ واٹر اور ایریگیشن کے شعبے میں ورسک کینال سسٹم کی ریماڈلنگ کی جارہی ہے جس کے لئے جاری سکیم کے تحت 250ملین روپے مختص کئے گئے ہے، تاحال سکیم پر 4671ملین روپے اخراجات ہو چکے ہیں۔ چمکنی سے بڈھ بیر تک دو رویہ سڑک کی تعمیر کے لئے بھی طویل المدتی پروگرام اے ڈی پی میں شامل ہے جس کی مجموعی لاگت چار ہزار ملین روپے ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انفراسٹریکچر(سروسز) کے شعبے میں نئے جنرل بس سٹینڈ کی تعمیر کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں نو سو ملین روپے مختص ہے۔

ٹریفک انفراسٹریکچر کی بہتری کے لئے بھی مختلف سکیمیں رکھی گئی ہیں، چوک یادگار میں کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ کی تعمیر اور نمک منڈی میں پارکنگ پلازہ کی تعمیر کے لئے نئی سکیمیں رکھی گئی ہے، جن کی مجموعی لاگت 1400ملین روپے ہے۔ 150ملین روپے کی لاگت سے پشاور کے لئے ٹریفک کنٹرول سسٹم وضع کیا جارہا ہے، اس وقت تک 135ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کیلئے ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور اس سلسلے میں عوامی آگاہی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو بھرپور طریقے سے پلان پر عمل درآمد کی ہدایت کی تاکہ تیزرفتاری سے اہداف کا حصول ممکن ہوسکے اجلاس کے شرکاء نے پشاور کی تبدیلی کیلئے مجوزہ پلان کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ پلان پشاور کی شکل تبدیل کرنے کیلئے ایک بہترین کاوش ثابت ہوگا۔