اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیس میں گرفتار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
وفاقی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے ایل این جی کیس کی سماعت کی، جہاں ملزمان کو پیش کیا گیا۔ دوران سماعت قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک مرتبہ پھر شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی، جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ اس مرتبہ ریمانڈ نہیں دوں گا۔
یاد رہے گزشتہ سماعت میں جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے تھے کہ 'عدالت آخری مرتبہ ریمانڈ میں توسیع کر رہی ہے' اور اس کے بعد مزید جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جائے گا۔ دورانِ سماعت سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملزم گرفتار پہلے کرتے ہیں کیس بعد میں بناتے ہیں، یہ تماشہ ہے کہ 2 افسران کو فون کر کے دھمکایا جا رہا ہے اور وعدہ معاف گواہ بننے کا کہا گیا ہے، یہ پولیٹیکل انجینئرنگ ہے۔
اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے 9 صفحات پر مشتمل جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ نیب نے مجھ سے 8 کیسز سے متعلق تفتیش کی جس میں منی لانڈرنگ، اثاثہ جات اور بے نامی جائیدادیں شامل تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایل این جی معاہدے کے ذریعے پاکستان کے ایک کھرب روپے بچائے، میرا جرم یہی ہے کہ میں نے قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے۔ اپنے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نیب نے ان سے اثاثوں، آمدن، اخراجات اور بینک اکاؤنٹس کا 20 سالہ ریکارڈ مانگا جبکہ 2 دہائیوں پر محیط مالیاتی تفصیلات فراہم کرنا اکثریت کے لیے ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے لیے ثبوت کا حصول ثانوی حیثیت رکھتا ہے، اصل مقصد تضحیک اور ہراساں کرنا ہے کیوں کہ نیب نے ٹیکس ادائیگیوں کو نظر انداز کر کے ٹیکس سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب نے حکومتی افسران کو گرفتاری کی دھمکیاں دے کر میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا کہا جبکہ مفتاح اسمٰعیل اور شیخ عمران الحق کی گرفتاری بھی وعدہ معاف گواہ نہ بننے کے باعث ہوئی۔
اپنے جواب میں انہوں نے پوچھا کہ اگر میں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا تو مفتاح اسمٰعیل اور شیخ عمران الحق یہاں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ انصاف کا قتل نہیں؟ اگر میں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا تو اس سے کسی کو کیا فائدہ پہنچا؟
انہوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے مجھ پر کرپشن کا الزام بھی لگایا، یہ بتائیں کہ کس سے کرپشن کے پیسے وصول کیے؟ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کسی سے خوفزدہ ہوتی ہے تو اس کے خلاف میڈیا ٹرائل شروع کر دیتی ہے اور اس سب کی واحد وجہ آپ کی اپوزیشن جماعت سے وابستگی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان کا ایل این جی ٹرمینل دنیا بھر کا سستا ترین منصوبہ ہے جو 100 فیصد گنجائش پر چل رہا ہے۔
اپنے جمع کروائے گئے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فرنس آئل کے مقابلے میں ایل این جی ٹرمینل سے بجلی کی پیداوار سے قومی خزانے کو ایک کھرب روپے کی بچت ہوئی۔
بعدازاں ان کی بات مکمل ہونے پر عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیراعظم، سابق وزیر خزانہ سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کو بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
علاوہ ازیں کمرہ عدالت کے باہر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں کہا کہ ان عدالتوں میں کوئی انصاف نہیں، یہاں پر ریاست خود شواہد پیدا کررہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتوں میں لوگوں کی تذلیل ہوتی ہے اس لیے عدالت میں لائیو کیمرا لگانا چاہیے جبکہ اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے۔
دوران سماعت شاہد خاقان عباسی کو زدوکوب اور گلاس مارنے کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے جو گلاس مارے گا میں اسے واپس گلاس ماروں گا اور جب میں ماروں گا تو پھر وہ دیکھنے والا ہوگا۔









