286

خیبرپختونخواحکومت کے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلی کافیصلہ


پشاور۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے عوام کو انصاف کی جلد فراہمی کیلئے مزید ججوں اور متعلقہ سٹاف کی بھرتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی نے فاٹا کے انضمام اور 2018میں وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وفاقی حکومت فاٹا انضمام کی بجائے قبائلی عوام کیساتھ ڈرامہ کررہی ہے اگر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہ کرائے گئے تو پھر فوج 2023تک فاٹا میں موجود رہے گی۔

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس کے بعد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہاکہ18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو کوڈ آف سول پروسیجر ایکٹ1908میں ترامیم کا اختیار ملا ہے،کوڈ آف سول پروسیجر ایکٹ کا قانون1908میں بنا تھا اور گزشتہ109سالوں کے دوران اس قانون میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی تھی ۔

چنانچہ موجودہ صوبائی حکومت نے عوام کو جلد انصاف کی فراہمی کیلئے اور عدالتی فیصلوں میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے ججوں ، وکلا اور محکمہ قانون کے حکام کیساتھ طویل مشاورت کا سلسلہ شروع کیا اور تین سال تک مشاورت کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوڈ آف سول پروسیجر ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ تیار کیا جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی ہے جبکہ کریمینل پروسیجر ایکٹ میں ترامیم کیلئے بھی سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کوڈ آف سول پروسیجر ایکٹ میں ترامیم کا مقصددیوانی مقدمات کے طریقہ کار کو سہل بنانا اور مقدمات نمٹانے میں تاخیر کا خاتمہ کرنا ہے ، ترامیم کی رو سے اب دیوانی مقدمات کا فیصلہ ایک سال میں ہوگا جبکہ دو پیشیوں پر وکیل کی عدم حاضری کی صورت میں عدالت کو فیصلہ کا اختیار ہوگا، انہوں نے کہاکہ ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے انصاف کی فراہمی میں رکاؤٹ اور تاخیر کے خاتمہ کیساتھ مقدمات کی پنڈنسی کا مسئلہ بھی حل ہوگا، انہوں نے چیف سیکرٹری کو عوام کو جلد از جلد انصاف کی فراہمی کیلئے ضرورت کی بنیاد پر نئے ججوں اور متعلقہ سٹاف کی بھرتی کی بھی ہدایت کردی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے قصور سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا میں اس قسم کے واقعات کے ملزمان گھنٹوں میں گرفتار کئے گئے ہیں، فاٹا انضمام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کیلئے جو وزیر اعظم کی سربراہی میں جو کمیٹی بنی ہے وہ بھی اس کے رکن ہے، مذکورہ کمیٹی نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دے کر2018میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وفاقی حکومت انضمام کی بجائے ڈرامہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ فاٹا کے انضمام میں جتنی تاخیر ہوگی اس کا نقصان ملک کو ہوگا کیونکہ اگر2018میں انضمام نہ ہوا تو فوج 2023تک فاٹا میں مصروف رہے گی ، انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو فاٹا تک توسیع دینے پر ہم خوش ہیں لیکن انضمام میں تاخیر کی صورت میں سیاسی مداخلت شروع ہوگی جس سے ملک میں انتشار پھیلے گا۔