وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے، جس کی کاپی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی ہے۔
نوٹس کس کس کو ارسال کیا گیا؟ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے علاوہ نجی ٹی وی چینل کے میزبان نعیم اشرف بٹ اور چینل کے چیئرمین محمد اقبال کو بھی قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے، جو کہ ایک نجی نیوز انٹرویو میں پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات لگانے اور انہیں نشر کرنے پر دیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس کا متن اور اعتراضات: نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چوہدری سالک نے انٹرویو میں پنجاب میں کرپشن کی کہانیاں سننے اور فائلوں کا ذکر کیا تھا، لیکن وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ ان الزامات کو بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز قرار دیا گیا ہے جس سے وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
مریم نواز کا اعلان اور خطاب: اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اگر چوہدری سالک کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائیں ورنہ جھوٹے الزامات پر انہیں عدالت میں گھسیٹوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر حکومت اتنی کرپٹ ہے تو وہ اس میں وزیر بن کر کیوں بیٹھے ہیں؟" اور اشارہ دیا کہ چوہدری سالک کو ان کی مرضی کا ڈپٹی کمشنر (DC) گجرات نہ لگنے پر تکلیف ہے۔ انہوں نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں نکاسی آب کا کام چوہدریوں نے نہیں کیا تھا۔
چوہدری سالک حسین کا ردعمل: دوسری جانب وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے مریم نواز کے بیان اور نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی لگوانے کی کوئی بات نہیں ہے اور انسان کے پاس اختیار آئے تو اسے عاجز رہنا چاہیے.









