پاکستان اس وقت بیک وقت کئی سنگین بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف عالمی و قومی سطح پر تباہ کن مہنگائی کے سیلاب نے عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے، جہاں غریب اور متوسط طبقے کے لیے نزلہ، زکام اور بخار جیسی معمولی بیماریوں کی ادویات خریدنا بھی ممکن نہیں رہا، تو دوسری طرف ملک کا بنیادی نظامِ صحت زوال پذیری کا شکار ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کا فرق مزید واضح ہو چکا ہے؛ پنجاب کی ستر فیصد سے زائد آبادی جو دیہاتوں میں مقیم ہے، ویسے ہی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے، لیکن جب لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے بڑے شہروں کے مرکزی سرکاری اسپتالوں میں بستروں اور بنیادی ادویات کی شدید قلت ہو، تو دیہی صحت کے مراکز کا حال خود بخود عیاں ہو جاتا ہے۔
صحت عامہ کے اس نازک صورتحال میں موسمیاتی آلودگی، سموگ اور مائیکرو بائیولوجیکل جراثیموں کے ساتھ ساتھ ایک ایسا خونی اور جان لیوا چیلنج سامنے آیا ہے جس نے عوامی زندگی کو فلج کر کے رکھ دیا ہے— یعنی 'سگ گزیدگی' (آوارہ کتوں کا کاٹنا) اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والا انتہائی خطرناک وائرس ریبیز
حالیہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی اور انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 2026 کے جاری اعداد و شمار کے مطابق
پنجاب: سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی 70 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً 400 افراد آوارہ کتوں کا شکار بن رہے ہیں۔ صرف دارالحکومت لاہور میں یہ تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
سندھ: صوبہ سندھ میں حالات اس سے بھی زیادہ ابتر ہیں۔ جہاں سال 2025 میں 2 لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے تھے، وہیں 2026 میں صرف جنوری سے اپریل کے درمیان 50 ہزار اور پہلی سہ ماہی تک 83 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے مطابق موجودہ سال کے پہلے نو مہینوں میں یہ تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرنے کا اندیشہ ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں سگ گزیدگی کے واقعات میں 63 فیصد کا ہولناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں گزشتہ برس اسپتال آنے والوں کی تعداد 1500 تھی جو اس سال ستمبر تک دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ 2026 میں صرف سندھ کے اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 46 شہادتیں/اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو سرکاری ریکارڈ پر آئے، جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں ایک بڑی تعداد اسپتال پہنچے بغیر گھروں میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔ اس بنا پر حقیقی ہلاکتیں سرکاری اعداد و شمار سے دوگنی ہو سکتی ہیں۔
کتوں کے لعاب (تھوک) میں موجود 'ریبیز وائرس' جب انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر بروقت اینٹی ریبیز ویکسین نہ لگائی جائے تو یہ مرض سو فیصد جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
محکمہ صحت سندھ اور طبی اداروں کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغامات کے مطابق:
فوری ابتدائی طبی امداد: کتے کے کاٹنے پر زخم کو فوراً 15 سے 20 منٹ تک بہتے ہوئے صاف پانی اور عام صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
فوری ویکسینیشن: زخم دھونے کے بعد بغیر وقت ضائع کیے قریبی اینٹی ریبیز یونٹ یا اسپتال پہنچ کر ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے مکمل ای آر وی کورس کروائیں۔
اسلامی و اخلاقی تعلیمات: ہمارے دینِ اسلام میں جانوروں پر رحم اور شفقت کی ہدایت کی گئی ہے۔ کتا ایک وفادار اور محافظ جانور ہے، جس کی ضرورت کے تحت (حفاظت، مویشیوں کی نگہبانی، شکار یا زراعت کے لیے) پرورش جائز ہے۔ تاہم، بلا ضرورت محض نمائش یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر مہنگے کتے پالنا ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، مہنگائی اور خوراک کی قلت کے باعث آوارہ کتے بھوک سے پاگل اور پرتشدد ہو رہے ہیں، جس کا شکار بالخصوص بے گناہ کمسن بچے، خواتین اور بوڑھے بن رہے ہیں۔ انسانی زندگی کی حرمت تمام مخلوقات سے مقدم ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ہولناک صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ سرکاری اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ اکثر مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین سرے سے دستیاب ہی نہیں ہوتی، اور غریب مریض نجی فارمیسیوں سے مہنگی ویکسین خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔
عالمی سطح پر اور خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے سائنسی اور انسانی بنیادوں پر مبنی طریقے اپنائے گئے ہیں:
اقدامروایتی طریقہ (پاکستان)عالمی و سائنسی طریقہ (توصیہ)آبادی کا کنٹرولزہر دینا یا گولی مارنا (بے اثر اور قانونی/اخلاقی پیچیدگیوں کا شکار) پروگرام: پکڑنا، نل بندی ، ویکسینیشن اور واپس چھوڑناویکسینیشناسپتالوں میں عدم دستیابی، حادثے کے بعد ویکسینیشنماس ڈاگ ویکسینیشن: آوارہ کتوں کی سطح پر ہی ریبیز ویکسینیشنکچرے کی منتقلیگلی محلوں میں کچرے کے ڈھیر (کتوں کی خوراک کا ذریعہ)سینیٹیشن اور کچرے کی بروقت تلفی تاکہ کتوں کی افزائش رکے
حکومت اور تمام صوبائی انتظامیہ کو چاہیے کہ محض آگاہی اشتہارات جاری کرنے پر اقتفا کرنے کے بجائے درج ذیل ہنگامی اقدامات کرے
تمام سرکاری اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں اینٹی ریبیز ویکسین کا مفت اور باقاعدہ اسٹاک یقینی بنایا جائے۔
بلدیاتی ادارے (KMC، ایل ڈی اے، وغیرہ) آوارہ کتوں کی افزائش نسل روکنے کے لیے 'سرجیکل اسٹریلائزیشن' اور اینٹی ریبیز ویکسینیشن کی مہم ہنگامی بنیادوں پر شروع کریں۔
گلی محلوں اور شاہراہوں سے کچرا اٹھانے کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ آوارہ کتوں کی برماسی کو روکا جا سکے۔
انسان اور حیوان دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، لیکن انسانی جان کا تحفظ ریاست کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر اب بھی ٹھوس پالیسی اور عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو سگ گزیدگی کا یہ خاموش بحران مزید کیمتی انسانی جانوں کو نگلتا رہے گا۔









