3

خیبرپختونخوا میں گورنر راج 6 ماہ بعد بھی جاری رہ سکتا ہے: رانا ثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج 6 ماہ کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرلی جائے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ گورنر راج آئینی طور پر 6 ماہ بعد ختم ہوجائے گا، جبکہ دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہ سکتی ہے۔

رانا ثنااللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی وجوہات پر پہلے بھی تفصیلی بات ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے کے بجائے سکیورٹی آپریشنز میں رکاوٹ بن رہی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کے رویے کے باعث دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ رانا ثنااللہ کے مطابق سہیل آفریدی بھی آپریشنز کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ حکومت نے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ دہشتگردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کے تناظر میں کیا۔

خیبرپختونخوا میں سکیورٹی آپریشنز تیز کرنے کا اعلان

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں اور انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز پہلے سے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کے بعد بھارت نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دیا۔ ان کے مطابق افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور بھارت آپریشن سندور کے دوسرے مرحلے پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ ان کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں رکھنے سے متعلق مؤقف

ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کو ان کی درخواست پر حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں ان 20 لاکھ افراد سے خطرہ ہے جنہیں وہ اسلام آباد لانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس بیان کے حوالے سے سہیل آفریدی یا ان کی جماعت کا مؤقف بھی اہم ہوگا، تاہم فراہم کردہ معلومات میں اس بارے میں ان کا ردعمل شامل نہیں ہے۔

گورنر راج کی مدت پر حکومتی رہنماؤں کے مختلف بیانات

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج آئینی طور پر 6 ماہ بعد ختم ہوجائے گا اور اس میں توسیع نہیں کی جاسکتی، جبکہ صوبائی اسمبلی بحال ہوجائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہ سکتی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ اگر وہ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلاتی ہے تو حکومت کو بھی مدعو کیا جائے، تاکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات بیان کی جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ جن امور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف نہیں، ان پر رہنماؤں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت سے تاحال اے پی سی کے حوالے سے رابطہ نہیں کیا گیا، تاہم دعوت ملنے پر وہ خود حکومتی مؤقف پیش کریں گے۔

گورنر راج کی مدت کے حوالے سے دونوں حکومتی رہنماؤں کے بیانات میں فرق سامنے آیا ہے۔ اس معاملے کی آئینی حیثیت اور آئندہ لائحہ عمل سے متعلق مزید وضاحت سامنے آنا باقی ہے۔