قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک بار پھر نئے مقامات تجویز کردیے ہیں، جبکہ وزیراعظم سے ملاقات اور باضابطہ مذاکرات کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے اپنا مؤقف بھی واضح کردیا ہے۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم، وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ یا وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کی رہائش گاہ پر بیٹھک ہوسکتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کی دعوت دینے کے لیے وزیراعظم خود اپوزیشن چیمبر آئیں۔ ان کی جانب سے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ اگر وزیراعظم اپوزیشن چیمبر نہیں آتے تو انہیں اپنے دفتر میں ملاقات کے لیے بلا سکتے ہیں۔
وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات میں فرق واضح
ترجمان اپوزیشن اتحاد کے مطابق وزیراعظم کے دفتر میں ملاقات تو ہوسکتی ہے، تاہم وہاں مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ باضابطہ مذاکرات صرف پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم یا رانا ثنا اللہ اور طارق فضل چوہدری کی رہائش گاہ پر کیے جاسکتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد نے مذاکرات کے مقام کے حوالے سے اپنا مؤقف سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات اور حکومت کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کو الگ الگ دیکھا جائے گا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے مجوزہ مقامات سامنے آنے کے بعد اب آئندہ پیش رفت دونوں فریقین کے مؤقف اور باہمی اتفاق سے مشروط ہے۔









