3

ایران سے مذاکرات نہیں ہو رہے، بہت جلد کچھ ہونے والا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد کسی نہ کسی صورت اہم پیش رفت ہونے والی ہے۔ دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں انتخابی جلسے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں آگے کیا ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ آئندہ پیش رفت امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگی۔

اس سے قبل انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم کر سکتا ہے، تاہم وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد امن دیرپا ثابت ہو۔

امریکی صدر نے کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی اور امریکا چاہے تو ابھی واپس جا سکتا ہے، لیکن ان کی ترجیح یہ ہے کہ خطے میں طویل عرصے تک امن برقرار رہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری اور مالی طور پر شکست دے دی ہے اور تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

ایران پر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کا دعویٰ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف افراد کا حوالہ دیا گیا ہے۔

تاہم، ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق اس رپورٹ کے حوالے سے امریکی صدر کے تازہ بیان میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بھی شدید متاثر ہوئی۔

جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان اور قطر نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے، تاہم آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی سمیت دیگر معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔

ٹرمپ کے حالیہ بیان اور ایران پر ممکنہ دوبارہ حملوں سے متعلق رپورٹ کے بعد خطے میں آئندہ سفارتی اور عسکری پیش رفت پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔