3

وزیراعظم کا خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ضروری وسائل مہیا کرے گی۔ قبائلی عمائدین نے بھی امن و استحکام کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل کے مشران سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عمائدین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی اضلاع کے عمائدین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں درپیش تمام ضروریات پوری کی جائیں گی تاکہ علاقے میں امن بحال ہوسکے۔

قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں امن و استحکام اور ترقی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ گورنر اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں قبائلی اضلاع کو گندم کی فراہمی، پولیس کی تربیت اور سیف سٹی منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے حکام کو سیف سٹی منصوبے کی جلد تکمیل کی ہدایات بھی جاری کیں۔

قبائلی مشران کا امن کے لیے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان

ترقیاتی کونسل کے قبائلی عمائدین نے کہا کہ وہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

مشران نے ماضی میں ترقیاتی کاموں کی عدم موجودگی اور دہشت گردی و بدعنوانی کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کوہستان اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے 37 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کا بھی ذکر کیا اور عزم ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق کے لیے دن رات محنت کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق وزیراعظم کا مؤقف

اس سے قبل اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ملک دشمنی پر اتر آئے تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل خون ریزی برداشت کرنا ممکن نہیں تھا، اسی مجبوری کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کے تعاون سے صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے اعلان اور قبائلی عمائدین کے تعاون کی یقین دہانی کو علاقے میں امن و استحکام اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔