8

بحیرۂ عرب میں بھی پابندیاں عائد، ایران نے سمندری حدود محدود کردیں

ایران کے پاسداران انقلاب نے چابہار سے خلیج عمان اور بحیرۂ عرب کے بعض حصوں تک محدود بحری علاقہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد خطے میں جاری بحری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے بتایا ہے کہ چابہار سے خلیج عمان اور بحیرۂ عرب کے بعض حصوں تک ایک محدود بحری زون قائم کیا جائے گا، تاہم اس علاقے کی حتمی حدود اور جغرافیائی نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق جو بحری جہاز ایران سے رابطہ کیے بغیر اس محدود علاقے سے گزرنے کی کوشش کریں گے، انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان پابندیوں کی نوعیت کیا ہوگی۔

ایران کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور آبنائے ہرمز سمیت اہم سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر تشویش پائی جارہی ہے۔

اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی آبنائے ہرمز سے باہر ایک محدود بحری زون قائم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

چابہار بندرگاہ کی اہمیت

چابہار ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں خلیج عمان کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ ہے، جو ایران کو براہ راست بحر ہند تک رسائی فراہم کرتی ہے۔

تازہ اعلان کے بعد خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ خلیج عمان میں بحری آمدورفت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی تجارت اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔