206

بابا وانگا کی صدی پرانی پیش گوئی آج کے اسمارٹ فون دور میں سچ ثابت

دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی اور اکثر درست ثابت ہونے والی پیش گوئیوں کے باعث مشہور بابا وانگا کی ایک پرانی پیش گوئی آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے کئی دہائیاں قبل یہ کہا تھا کہ مستقبل میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرے گا۔ یہ آلات جہاں سہولت فراہم کریں گے، وہیں انسانی تعلقات اور سماجی روابط کی نوعیت میں بھی نمایاں تبدیلیاں لائیں گے۔

اس وقت اس پیش گوئی کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، لیکن آج اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا بڑھتا ہوا استعمال اس پیش گوئی کی عملی تصویر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ہر عمر کے افراد، بچے، نوجوان اور بزرگ، اب کام، تعلیم، تفریح اور سماجی رابطوں کے لیے انہی آلات پر انحصار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا خدشہ: ڈیجیٹل دور نے انسانی روابط کمزور کر دیے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی آسان ضرور بنائی ہے، مگر بابا وانگا نے اس کے ممکنہ منفی اثرات کی بھی پیشگی نشاندہی کی تھی۔ جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوتا جائے گا، ویسے ویسے حقیقی انسانی روابط میں کمی آتی جائے گی، جس کے اثرات ذہنی صحت پر نمایاں ہوں گے۔

آج یہ خدشات کسی حد تک درست ثابت ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اسکرین ٹائم میں مسلسل اضافے کے باعث تنہائی، بے چینی اور توجہ میں کمی جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کا حد سے زیادہ استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل میں بڑے سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔

تحقیق: بچے سونے سے پہلے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین اسکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے جوڑ رہے ہیں۔