69

سمندر کی تہہ میں اینٹوں جیسا راستہ، سائنسدان حیران

سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ایک ایسی حیران کن اور پراسرار ساخت دریافت کی ہے جس نے تحقیقاتی دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ یہ غیر معمولی دریافت ہوائی جزائر کے شمال میں واقع ایک گہرے سمندری پہاڑی سلسلے میں سامنے آئی، جہاں سمندر کی تہہ میں ایک ایسی سطح دیکھی گئی جو دیکھنے میں خشک جھیل یا پیلی اینٹوں سے بنے راستے سے مشابہ محسوس ہوتی ہے۔

یہ منظر ایک سائنسی تحقیقاتی مہم کے دوران سامنے آیا، جب ایک تحقیقاتی جہاز نے دنیا کے سب سے بڑے محفوظ سمندری علاقوں میں سے ایک میں سروے کیا۔ یہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا بیشتر حصہ آج بھی انسان کی آنکھ سے اوجھل ہے، جبکہ سائنسدانوں کے مطابق اب تک اس پورے خطے کی سمندری سطح کا صرف چند فیصد حصہ ہی دریافت کیا جا سکا ہے۔

تحقیق کے دوران سمندر کی سطح سے ہزاروں میٹر نیچے ایک زیرِ آب پہاڑی چوٹی پر موجود سطح نے ماہرین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ سطح بظاہر خشک محسوس ہو رہی تھی اور اس پر بننے والی ساخت کسی منظم راستے یا انسانی تعمیر کا گمان دیتی تھی۔

تاہم ماہرین ارضیات کے مطابق یہ دراصل آتش فشانی پتھروں کی ایک خاص قسم ہے جو شدید آتش فشانی سرگرمی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ان پتھروں کی سطح وقت کے ساتھ اس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی کہ وہ باقاعدہ اینٹوں کی قطار جیسی دکھائی دینے لگی۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اس سطح پر بننے والی نوے درجے کے زاویے والی دراڑیں بار بار گرم اور ٹھنڈا ہونے کے قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ یہی عمل پتھروں کو اس مخصوص شکل میں تبدیل کرتا ہے، جو دیکھنے میں انسان کے بنائے گئے راستے سے مشابہ معلوم ہوتی ہے۔

سائنسدانوں نے واضح کیا ہے کہ اس ساخت کا کسی قدیم تہذیب یا انسانی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ زمین کے قدرتی جغرافیائی اور آتش فشانی عمل کا شاندار مظہر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمین کا زیادہ تر حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، لیکن انسان نے اب تک سمندر کی گہرائیوں کا نہایت معمولی حصہ ہی دریافت کیا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق کئی دہائیوں کی کوششوں کے باوجود سمندر کی تہہ کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ انسانی آنکھوں کے سامنے آ سکا ہے۔

سائنسدانوں کے نزدیک اس نوعیت کی دریافتیں نہ صرف زمین کی پوشیدہ ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ سمندر کی تہہ میں موجود زندگی، آتش فشانی نظام اور قدیم پہاڑی ڈھانچوں کے بارے میں بھی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ راستہ کسی خیالی دنیا کی جانب نہیں جاتا، لیکن یہ انسان کو زمین کے ان گہرے رازوں تک ضرور لے جا رہا ہے جنہیں سمجھنا مستقبل کی سائنسی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔