77

میٹا 2026 میں دو نئے اے آئی ماڈلز ’مینگو‘ اور ’ایووکاڈو‘ متعارف کرانے کی تیاری

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلہ تیز ہو گیا ہے اور فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا اب ایک بار پھر اس دوڑ میں مرکزی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کمپنی دو جدید ترین اے آئی ماڈلز ’مینگو‘ اور ’ایووکاڈو‘ پر کام کر رہی ہے، جو اگر منصوبے کے مطابق متعارف کرائے گئے تو 2026 کے پہلے نصف میں صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔

میٹا کے مطابق مینگو تصاویر اور ویڈیوز کی تخلیق میں مہارت رکھے گا اور اعلیٰ معیار کی تخلیقی صلاحیتیں فراہم کرے گا تاکہ یہ اوپن اے آئی کے ماڈل ’سورا‘ اور گوگل کے جدید ویژول ماڈلز کے مقابلے میں کھڑا ہو سکے۔ دوسری جانب ایووکاڈو ایک جدید لینگویج ماڈل ہوگا جو تحریر، کوڈنگ اور منطقی مسائل حل کرنے میں خاص طور پر مضبوط ہے اور اسے میٹا کا سب سے جدید ’ورلڈ ماڈل‘ تصور کیا جا رہا ہے۔

ان منصوبوں کی قیادت میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ کر رہے ہیں، جنہیں کمپنی نے اپنی نئی قائم کردہ ’میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز‘ کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ تحقیق اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور میٹا کو اے آئی کی صفِ اول میں واپس لایا جا سکے۔

میٹا نے 2025 میں اپنی اے آئی ٹیموں کی تنظیم نو کی اور دنیا بھر سے درجنوں ممتاز سائنسدان اور انجینیئرز شامل کیے، جن میں اوپن اے آئی کے سابق ماہرین بھی شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب گوگل کے جیمینائی ماڈلز اور اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی و ویڈیو ٹولز مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ میٹا کی کوشش ہے کہ نئے ماڈلز مینگو اور ایووکاڈو کے ذریعے تخلیقی اور تکنیکی میدان میں اپنی مضبوطی دکھا کر عالمی اے آئی مقابلے میں واپس اپنی جگہ بنائے۔

اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے تو 2026 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم سال بن سکتا ہے، جہاں مقابلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ وژن، فہم اور تخلیقی سوچ کا بھی ہوگا۔