43

بھارتی فلم 'دھریندر' پر پاکستانی حلقوں کی تنقید، لیاری اور شہید افسر کے کردار کی منفی عکاسی پر اعتراضات

سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھارتی فلم 'دھریندر' کو پاکستان، خاص طور پر لیاری کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی ایک اور مثال قرار دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ "لیاری تشدد نہیں بلکہ ثقافت، امن، صلاحیت اور حوصلے کی علامت ہے۔"

شرجیل انعام میمن نے مزید بتایا کہ اگلے مہینے ریلیز ہونے والی فلم 'میرا لیاری' لیاری کا حقیقی چہرہ دکھائے گی اور اس میں امن، خوش حالی اور فخر کی جھلک نظر آئے گی۔

دوسری جانب، سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بالی ووڈ فلم 'دھریندر' میں اپنے شوہر کے کردار کی منفی عکاسی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور فلم سازوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

نورین اسلم نے نجی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ فلم میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا شامل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف میرے شوہر کی خدمات کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فلم میں لیاری کے علاقے کو کیوں منتخب کیا گیا اور رحمان ڈکیت کے کردار کو کیوں بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے، جبکہ اصل میں چوہدری اسلم نے خطرناک دہشت گردوں کے خلاف اپنی زندگی وقف کی۔

نورین اسلم نے کہا کہ ایسے منفی مناظرات اور پروپیگنڈا شہید افسر کی یاد اور خدمات کے منافی ہیں، اور اگر ان کے شوہر کے کردار کے بارے میں کوئی غلط بیانیہ یا منفی پہلو شامل کیا گیا تو وہ عالمی قوانین کے تحت فلم کے ڈائریکٹرز اور اسکرین رائٹرز کے خلاف کارروائی کریں گی۔

انہوں نے زور دیا کہ چوہدری اسلم کی بہادری اور وطن کے لیے خدمات پوری دنیا میں سراہا جاتی ہیں، اور فلم کے ذریعے اسے غلط تناظر میں پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔