70

اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملہ: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 4 دہشت گرد گرفتار

اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ خودکش حملہ آور کو کمرہ کرائے پر دینے والے سہولت کار کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد ساجد اللہ عرف شینا حملہ آور کا ہینڈلر ہے، جس نے تفتیش کے دوران بتایا کہ جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کی ہدایت فتنۃ الخوارج کے کمانڈر سعیدالرحمان عرف داداللہ نے دی تھی۔ ساجد اللہ کے مطابق داداللہ باجوڑ میں ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف ہے اور اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔

حکام کے مطابق، حملہ آور عثمان عرف قاری شینواری قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، اور اسے خودکش جیکٹ فراہم کرنے کے عمل میں ساجد اللہ نے اہم کردار ادا کیا۔ ساجد نے بتایا کہ عثمان کی تصاویر خارجی کمانڈر نے بھیجی تھیں اور اسلام آباد کے نواحی علاقے میں اسے ٹھہرایا گیا۔

سیکیورٹی اداروں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خودکش حملہ آور نے 2024 اور 2025 میں متعدد بار افغانستان سے پاکستان کا سفر کیا اور ایک ویزا پر بھی ملک میں داخل ہو چکا تھا۔ حملہ سے تقریباً 23 روز قبل، وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرا تھا۔

مزید برآں، خودکش حملہ آور کو کمرہ کرائے پر دینے والے سہولت کار کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مالک مکان کے مطابق اس نے یہ جگہ ایک خاتون کو دی تھی، لیکن اس حوالے سے باقاعدہ کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

سیکیورٹی اداروں نے اس کارروائی کو خودکش حملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔