سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، اور حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔
حملے کی ذمہ داری ’جیش الہند‘ کے نام سے قبول کی گئی۔
حملے کے حتمی احکامات خارجی نور ولی محسود نے دیے، جبکہ منصوبہ بندی خارجی زاہد نے کی۔
دہشت گرد کارروائی کے دوران افغانستان سے موصول ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔
افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں، تاکہ پاکستان اور دیگر ممالک پر دباؤ نہ بڑھے۔
حملے کے لیے تمام ساز و سامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کا مقصد پاکستان میں سیکیورٹی خدشات بڑھانا تھا، جو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ڈیمانڈ پر کیا گیا۔
جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج کے تمام 627 طلبہ اور اساتذہ کو 14 گھنٹے بعد بحفاظت ریسکیو کیا گیا، آپریشن کے دوران 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور کالج میں چھپے چار خارجی دہشت گرد مارے گئے۔









