پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی و عدالتی صورتحال پر شدید تنقید کی ہے۔
گرفتاریاں اور نظربندی کے نوٹیفکیشن: سلمان اکرم راجا نے انکشاف کیا کہ علیمہ خان اور ان کے غریب ڈرائیور کو پہلے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا، اور اس کے بعد نظربندی کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مزدوری کرنے والے ایک عام ڈرائیور کو گرفتار کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟
عدالتوں کی بے بسی پر اظہارِ افسوس: انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج انہیں یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ عدالتیں مکمل طور پر بے بس ہو چکی ہیں جو ملاقاتیں تک نہیں کرا سکتیں اور نہ ہی انصاف فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ کسی بھی شہری کو کسی بھی وقت اٹھا لیا جاتا ہے۔
شہری آزادیوں کا سلب ہونا: پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں انگریز کے دور کے بنائے ہوئے کالے قوانین کا استعمال کر کے عام شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو سلب کیا جا رہا ہے۔
احتجاج اور عوامی حقوق کا دفاع: سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کو کنٹرول نہیں کرتی، لیکن وہ اپنے پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی اور عوام کو آگاہ کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ اپنے حقوق کے لیے باہر نکلتے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، مگر مہنگائی، بے روزگاری اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھانا ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے، اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی انہی حقوق کی خاطر جیل میں قید ہیں۔









