2

اسد قیصر نے عمران خان سے اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوابنوانا چاہتے تھے : یرسٹر سیف کا دعویٰ

سابق مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے اپنے بھائی عاقب اللہ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم عمران خان نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات کے بعد اور علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی سے قبل ان کی اور اسد قیصر کی عمران خان سے مشترکہ ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس ملاقات میں اسد قیصر نے اپنے بھائی عاقب اللہ کو صوبے کا وزیراعلیٰ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

عمران خان نے عاقب اللہ کو وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت نہیں کی، بیرسٹر سیف

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اسد قیصر کی تجویز قبول نہیں کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک دوسری ملاقات میں، جس میں جنید اکبر بھی موجود تھے، عمران خان نے عاقب اللہ کو وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت نہیں کی۔

سابق مشیر اطلاعات کے مطابق عمران خان نے ابتدا میں عاقب اللہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی کا اسپیکر بنانے کی ہدایت دی تھی، تاہم بعد میں یہ فیصلہ تبدیل ہوگیا اور بابر سلیم سواتی کو اسپیکر نامزد کردیا گیا۔

مشال یوسفزئی کے بیان کے بعد معاملہ دوبارہ زیرِ بحث

بیرسٹر سیف کے یہ بیانات سینیٹر مشال یوسفزئی کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں اسد قیصر پر اپنے بھائی کو وزیراعلیٰ بنوانے کے لیے لابنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے، جنہوں نے بیرسٹر سیف کے دعوے کے بعض پہلوؤں پر اختلاف کیا۔

شوکت یوسفزئی کا مؤقف بھی سامنے آگیا

شوکت یوسفزئی کے مطابق اسد قیصر کی عمران خان سے ملاقات سے پہلے ہی علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ نامزد کیا جاچکا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر سیف نے خود اعلان کیا تھا کہ عمران خان نے عاقب اللہ کو اسمبلی اسپیکر نامزد کیا ہے۔

یوں خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کی نامزدگی اور عاقب اللہ کے ممکنہ کردار سے متعلق مختلف رہنماؤں کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں متعلقہ رہنماؤں کے دعوؤں اور اختلافی مؤقف کو سامنے رکھتے ہوئے حتمی نتیجہ اخذ کرنا ضروری ہے۔