8

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 41 پیسے جبکہ پیٹرول 4 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 ستمبر 2026 سے ہوگا۔

پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں مقرر

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے سے بڑھا کر 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت 380 روپے 24 پیسے سے بڑھا کر 384 روپے 34 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں قیمتوں، پلاٹس کی شرح، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 108.8 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 106 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور سپلائی روٹس کو درپیش خطرات شامل ہیں۔

حکومت کی فیول ریلیف اسکیم بھی جاری

حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کیلئے وزیراعظم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم شروع کر رکھی ہے۔

اس اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 100 روپے فی لیٹر ہدفی ریلیف دیا جا رہا ہے۔ موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کیلئے 30 لیٹر تک ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس اسکیم کیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے، جبکہ حکام کے مطابق اس پر تقریباً 25 ارب روپے ماہانہ خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق حکومت عالمی منڈی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔