84

موت اختتام نہیں، انسانی وجود توانائی میں بدل کر کائنات کا حصہ بن جاتا ہے: ماہر فلکیات

واشنگٹن: انسانی موت کو عموماً زندگی کا اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن مشہور ماہر فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق موت کے بعد انسانی جسم ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنی شکل بدل کر کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔

ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت محض غائب ہو جانا نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے مطابق جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع نہیں ہوتی بلکہ ری سائیکلنگ کے عمل سے مٹی اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتی ہے، یوں انسانی حیاتیاتی توانائی زمین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔

احتراق یا جسم کو جلانے کے عمل کے دوران یہ توانائی حرارت اور انفراریڈ لہروں میں بدل کر کائنات میں پھیل جاتی ہے۔ ٹائسن کی مثال کے مطابق، اگر کسی شخص کو چار سال قبل جلایا گیا ہو تو اس کی توانائی کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔

یہ تصور تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون کی عملی تفسیر ہے، جس کے مطابق مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی اور پودوں کے ذریعے دوسرے جانداروں میں منتقل ہو کر کائنات میں ایک مسلسل چکر قائم رکھتے ہیں۔

ٹائسن کے مطابق، موت اختتام نہیں بلکہ تبدیلی ہے، جس میں انسان اپنی شکل بدل کر کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے اور اس کی توانائی کے ذریعے زندگی کے لامتناہی چکر کا حصہ بنتا ہے۔ یہ سائنسی نظریہ انسانی وجود کی غیر فانی حیثیت اور کائنات میں اس کی دائمی شرکت کا احساس دلاتا ہے۔