7

حماس کی قیادت میں بڑی تبدیلی، نئے سربراہ کے تقرر کا اعلان

غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے خلیل الحیا کو تنظیم کا نیا مجموعی سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس نے ایک بیان کے ذریعے نئے سربراہ کی تقرری سے متعلق آگاہ کیا۔ خلیل الحیا اس سے قبل حماس کی سیاسی قیادت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ حماس نے 6 جولائی کو غزہ میں قائم اپنی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام جنگ کے بعد غزہ میں سویلین حکومت کے قیام سے متعلق ایک امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

حماس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ انتظامی اختیارات فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم وزارتوں اور سرکاری اداروں کا عملہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا جبکہ سکیورٹی اور پولیس کے معاملات حماس کے پاس رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت غزہ میں غیر عسکری اور سویلین نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس تشکیل دیا گیا ہے۔ بورڈ نے حماس کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے عملی اقدامات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

دوسری جانب اسرائیل نے حماس کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض ’’ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین ساعر کا کہنا تھا کہ جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈالتی، کوئی بھی سویلین حکومت اس کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں ہوگی۔

حماس نے جواب میں اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں حملے مکمل طور پر بند ہونے تک ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔