واشنگٹن: ایران سے مبینہ طور پر منسلک ایک ہیکر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج فارس میں تعینات ہزاروں امریکی میرینز کی ذاتی معلومات لیک کر دی ہیں، جس کے بعد امریکی دفاعی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ”ہنڈالا“ نامی سائبر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 2 ہزار 379 امریکی میرینز کی ذاتی تفصیلات جاری کی ہیں۔ گروپ نے یہ معلومات اپنے ٹیلیگرام چینل پر شیئر کرتے ہوئے اسے اپنی نگرانی کی صلاحیت کا ثبوت قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں اہلکاروں کے نام اور دیگر شناختی معلومات شامل ہیں۔ عراقی میڈیا ادارے شفق نیوز کے مطابق خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں، جن میں انہیں نگرانی میں ہونے اور ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی وارننگ دی گئی ہے۔
ہیکر گروپ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس اہلکاروں کے اہل خانہ کی معلومات، گھریلو پتے، روزمرہ معمولات اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق مزید حساس ڈیٹا بھی موجود ہے، اور مزید انکشافات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد امریکی دفاعی حلقوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک کس حد تک ہوا اور اس کے آپریشنل سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ہیکرز نے یہ معلومات کس ذریعے حاصل کیں اور کیا دیگر نظام بھی متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔
یہ گروپ اس سے قبل بھی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ کر چکا ہے، جس میں مبینہ طور پر ان کی تصاویر اور دیگر دستاویزات بھی جاری کی گئی تھیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران دباؤ کے تحت رابطے کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق بات چیت جاری ہے۔








