140

لاکھوں افراد کیلئے رہائشی اور ورک ویزوں کا اعلان، اسپین کا بڑا امیگریشن ریفارم پیکج جاری

اسپین کی حکومت نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے کے تحت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کے لیے بڑے پیمانے پر امنیسٹی (عام معافی) کا منصوبہ حتمی شکل دے دی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت اسپین میں موجود لاکھوں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اہل افراد باقاعدہ رہائشی اور ورک پرمٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے جس کے بعد وہ قانونی طور پر ملک میں رہائش اور روزگار اختیار کر سکیں گے۔

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس اقدام کو “انصاف پر مبنی فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو افراد پہلے ہی ملک میں محنت کر رہے ہیں انہیں معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ ٹیکس نظام میں شامل ہو کر معیشت کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مخصوص تاریخ سے پہلے اسپین پہنچے تھے، ملک میں مستقل طور پر مقیم ہیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اہل افراد کو ایک سال کا عارضی رہائشی اور ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا۔

درخواستوں کا آغاز اپریل سے ہوگا جبکہ یہ عمل 30 جون تک جاری رہے گا۔ اندازاً 5 لاکھ سے زائد افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اس فیصلے پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسے متنازع قرار دیا ہے جبکہ امیگریشن حکام نے اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کو مختصر وقت میں نمٹانے کو ایک بڑا انتظامی چیلنج قرار دیا ہے۔