پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نئی رفتار ملنے کا امکان ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق پاکستان نے تجویز دی ہے کہ سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے قبل آئندہ مرحلے کے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق فریقین اب بھی کسی ممکنہ معاہدے کے لیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے بعد بھی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک امریکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مذاکرات آئندہ جمعرات کو ہو سکتے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ اور براہِ راست رابطے اب بھی جاری ہیں، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جو تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہا لیکن کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا تھا۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر JD Vance نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور اب فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے۔
اسی طرح امریکی صدر Donald Trump نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کئی نکات پر اتفاق ہوا ہے اور فریقین معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم بعض معاملات پر اختلافات ابھی باقی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں خطے میں استحکام اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔









