74

اعصابی درد اور پٹھوں کے درد میں فرق کیا ہے؟ ماہرین نے اہم علامات بتا دیں

روزمرہ زندگی میں ہونے والے مختلف جسمانی درد اکثر ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں، تاہم ان کی اصل وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر اعصابی درد اور پٹھوں کے درد میں فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ دونوں کی نوعیت اور علاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق اکثر افراد ان دونوں اقسام کے درد میں فرق نہیں کر پاتے، جس کے باعث علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے اور بعض اوقات بیماری پیچیدہ بھی ہو سکتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق اندرپرستھ اپولو ہاسپٹل کے سینئر آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر راجو کا کہنا ہے کہ اعصابی درد عموماً تیز، جلنے جیسا یا بجلی کے جھٹکوں جیسا محسوس ہوتا ہے، جو ایک جگہ محدود رہنے کے بجائے جسم کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کمر کا درد پاؤں کے انگوٹھے تک محسوس ہو تو یہ عرق النساء یا اعصابی درد کی واضح علامت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ سن ہونا، جھنجھناہٹ، سوئیاں چبھنے جیسا احساس یا کمزوری بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔

اس کے برعکس پٹھوں کا درد زیادہ تر کھنچاؤ، بوجھ یا ہلکے درد کی صورت میں ہوتا ہے اور عام طور پر ایک مخصوص جگہ تک محدود رہتا ہے۔ یہ درد حرکت کرنے، دبانے یا جسمانی مشقت کے بعد زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اعصابی درد کی وجوہات میں نسوں پر دباؤ، سلپ ڈسک، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، کارپل ٹنل سنڈروم اور ذیابیطس شامل ہیں، جبکہ پٹھوں کا درد زیادہ تر جسمانی تھکن، غلط اندازِ نشست، یا معمولی چوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر درد ایک سے دو ہفتے تک برقرار رہے، بڑھتا جائے یا روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بنے تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

اسی طرح اگر درد جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل رہا ہو، سن ہونا، جھنجھناہٹ، کمزوری یا توازن برقرار نہ رہے، یا پیشاب و پاخانے پر کنٹرول متاثر ہو تو یہ خطرناک علامات ہو سکتی ہیں جن کے لیے فوری طبی توجہ ضروری ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ عام طور پر پٹھوں کا درد 48 سے 72 گھنٹوں میں آرام، مناسب پانی، ہلکی مالش اور سادہ ادویات سے بہتر ہو جاتا ہے، جبکہ اعصابی درد اکثر آرام سے ختم نہیں ہوتا اور رات کے وقت اس کی شدت بڑھ سکتی ہے۔

نوٹ: کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں مستند معالج سے مشورہ ضرور کریں۔