متحدہ عرب امارات کے وزیرِ پیٹرولیم، سلطان احمد الجابر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایران کے خلاف فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں مداخلت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، جو ناقابلِ قبول معاشی دباؤ کے مترادف ہے۔
سلطان احمد الجابر نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ہے تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش عالمی توانائی کی مارکیٹس کو تہہ و بالا کر سکتی ہے۔
اماراتی وزیر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور امن قائم رکھا جا سکے۔
سلطان احمد الجابر ابوظبی کی قومی آئل کمپنی ادنوک کے سربراہ بھی ہیں اور توانائی کے شعبے میں ایک اہم عالمی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے علاقے میں توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کے تناظر میں آیا ہے۔









