پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے مالی دباؤ کے باعث مختلف محکموں کے فنڈز روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور جاری اخراجات کی مد میں 25 ارب روپے سے زائد کی رقم روک دی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صحت کارڈ، اسپتالوں، بی آر ٹی، ریسکیو اور پولیس جیسے اہم شعبوں کے فنڈز متاثر نہیں کیے گئے، تاہم دیگر محکموں کے اخراجات عارضی طور پر محدود کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش کے باعث صوبے کو اب تک تقریباً 9 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے مالی صورتحال مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مارچ کے مہینے میں خیبرپختونخوا کو 55 سے 60 ارب روپے فراہم کیے جانے تھے، تاہم اب تک صرف 17 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جس سے صوبے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) کے لیے وفاق کی جانب سے 66 ارب روپے کی ادائیگی بھی تاحال نہیں کی گئی، جبکہ صوبائی حکومت اس مد میں 15 ارب روپے خود خرچ کر چکی ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور آئندہ ہفتوں کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔









