پکتیکا، افغانستان: پاکستان اور افغانستان کی سرحد، جسے ڈیورینڈ لائن کہا جاتا ہے، کے ایک حصے پر حالیہ ہفتوں میں مبہم صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے پکتیکا صوبے میں کم از کم 12 کلومیٹر سرحدی علاقے کو باڑ لگا کر ضم کر لیا ہے۔
تاہم افغان طالبان کی وزارت دفاع نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس سرحدی علاقے پر افغان سکیورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے اور کسی بھی پاکستانی پیش قدمی کی کوئی حقیقت نہیں۔ وزارت دفاع نے اس واقعے کو میڈیا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سر زمین میں فورسز ہر جگہ موجود ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیورینڈ لائن کے ساتھ واقع اس علاقے میں ابھار کی طرح ایک خطہ ہے جس پر پاکستان کی جانب سے باڑ لگائی گئی ہے۔ اس علاقے کا رقبہ تقریباً 32 مربع کلومیٹر ہے اور باڑ نے اس کے نچلے اور اوپری حصے کو افغانستان کی سر زمین سے الگ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ نئی باڑ 10 مارچ سے پہلے نظر نہیں آئی تھی، لیکن صرف تین دن بعد یہ واضح طور پر دکھائی دینے لگی۔ اس باڑ کے ذریعے پاکستان نے ’ایل‘ شکل کے علاقے کو عملی طور پر اپنی سرزمین میں شامل کر لیا ہے۔ اس خطے میں ایک اور باڑ بھی افغانستان کی طرف سے 13 کلومیٹر کے اندر تک کھینچی گئی ہے









