118

روس کا عالمی سطح پر پیٹرول کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ

روس نے یکم اپریل 2026 سے عالمی سطح پر پیٹرول کی فراہمی پر مکمل پابندی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر 31 جولائی 2026 تک نافذ رہے گی اور ان ممالک پر سب سے زیادہ اثر ڈالے گی جو روس کے ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔

روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بتایا کہ یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ اور ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر روس نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پابندی یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور ان ممالک پر لاگو نہیں ہوگی جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے ہیں، تاہم باقی دنیا کے لیے پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام عالمی توانائی مارکیٹ میں اثرات مرتب کرے گا اور صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔